وکیل سے طلاق نامہ لکھوا کر شوہر کے دستخط کرنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
۲۲ ذیقعده ۱۴۰۰ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کے والد نے زید سے کسی گھریلو جھگڑے میں طیش اور غصہ کی حالت میں کہا کہ چل اگر میرے نطفہ سے پیدا ہے تو وکیل کے یہاں تین طلاق نامہ تیری بیوی کا لکھا تا ہوں ۔ لڑکا ( زید ) اپنے والد کی بات پر حکم ماننے کے لئے ساتھ چلا گیا اور زید کے والد نے وکیل سے طلاقنامہ زید کی بیوی کا لکھوایا اور لڑکے (زید) کے دستخط کرائے۔ زید نے اپنی زبان سے طلاق نہیں دی اور نہ ہی اس کا ایماء تھا۔ کیا اس طرح طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟ اگر طلاق ہو گئی تو کس طرح کی طلاق ہوئی ؟ زید کو کیا کرنا چاہئے؟ جواب باصواب سے مطلع فرماویں۔ لمستفتی :سلیمان ولد شہید خاں محلہ رام چبوتری کالپی ضلع جالون
الجواب: بر تقدیر صدق سوال صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی اپنے شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے بھی حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ