ایک ناقص سوال کا جواب!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع فتوی ہذا میں کہ: زید و ہندہ دونوں زن و شوہر تھے۔ ۱۰ ر رمضان المبارک کو جبکہ ہندہ بحالت روزہ تھی اور زید کا روزہ نہیں تھا۔ زن و شوہر کے خانگی جھگڑے میں زید نے اپنے چھوٹے بہنوئی کو بلا کر چند دفعہ کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی۔ ہندہ یہ نہیں بتا سکتی کہ دو دفعہ کہا یا چار دفعہ۔ اس پر زید کے بہنوئی نے کہا کہ ایسے لفظ زبان سے مت نکالو اس پر زید نے کہا کہ قرآن شریف کی قسم میں نے فیصلہ دے دیا۔ اور یہ کہہ کر چھوٹی لڑکی کے ہاتھ دور کشا منگوا کر مجھ سے کہا کہ میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں رہا۔ جی چاہے جہاں چلی جا اور اپنے کپڑے وغیرہ جو سمجھو لے لو۔ ہندہ اپنا کچھ سامان اور خود دونوں رکشا سمیت اپنے تایا کے گھر چلی گئی چند روز کے بعد زید نے مجھے گھر بلانے کی کوشش کی اور طرح طرح کی دھمکی دی۔ زید کے چند مشورے گیروں نے ہندہ کے تایا کو سمجھایا وہ بھی کچھ نہیں بولے اور ہندہ کو ہر مجبوری کے تحت زید کے گھر آنا پڑا۔ ہندو برابر یہ کہتی ہے کہ جبکہ مجھے واقعی طلاق دے کر پھر رکشا منگا کر اور قرآن شریف کی قسم کھا کر میرے حال پر مجھے گھر سے یہ کہ کر نکال دیا کہ جی چاہے جہاں جاؤ، میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ پھر ایسی صورت میں اس کا ساراو بال اور گناہ زید اور اس کے ہم خیال لوگوں پر ہے۔ ہندہ پر کچھ نہیں یوں کہ ہندہ برابر یہی کہتی ہے کہ واقعی میری طلاق ہوگئی اور اب ایک ماہ ایک دن بعد مجھے مجبوراً ڈرا دھمکا کر زید کے گھر بھجوانے اور لانے والے سب گناہ گار ہوں گے۔ مندرجہ بالا سوال کا جواب بموجب شرع شریف مرحمت فرما یا جاوے۔ خادم الفقراء پیارے خاں بقلم خود ساکن محله ذخیره ضلع بریلی شریف (یویی)
الجواب: صورت مسئولہ میں شوہر سے استفسار کیا جائے ، وہ جیسی اور جتنی طلاقوں کا اقرار کرے، ان کے واقع ہونے کا حکم ہے۔ فی الواقع اگر اس نے ہندہ کو تین طلاقیں دی ہیں تو ہندہ اس کے لئے ایسی حرام کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی