شوہر کا بیوی کو نہ رکھنا اور نہ ہی نفقہ دینا، اس صورت میں طلاق یا خلع کے حصول کا مسئلہ
میری ایک لڑکی جس کا نام نور جہاں خاتون بنت محمد ارشاد ساکن حبیب پور تھا نہ جگدیش پور ضلع بھاگلپور کا نکاح محمد تسلیم پسر مرحوم نامعلوم ساکن گولا گھاٹ تھانہ کوتوالی ضلع بھا گلپور کے ساتھ ہوا تھا۔ جس کی شادی ہوئے قریب ڈھائی برس ہو گئے۔ ان کو لڑکا وغیرہ بھی نہیں ہوا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہماری لڑکی کی شادی جب ان سے ہوگئی تو یہ اپنے سسرال کل چھ مہینے رہی اور اس کے بعد سے یہ لڑکی ۲۳-۲۲ مہینے سے ہمارے پاس ہے۔ میاں بیوی میں کچھ ایسی ان بن ہوئی کہ اس جھگڑے کے معاملہ میں دولڑ کی کولا کر حبیب پور پہنچا کر چلا گیا۔ پھر اس دن ، تاریخ سے کھانا خرچہ دینا بالکل بند کر دیا۔ جس کو آج لگ بھگ دو سال ہو گئے ۔ یہ میرے سر کا درد ہو گیا ہے اور میرے سامنے ایک بے چینی کی دیوار بن گئی ہے جو کہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ بہر کیف میں محلہ سے چار پانچ آدمیوں کو لے کر لڑکے کے گھر پر بھی کئی بار گیا بلکہ ہم نے بھیکن پور میں لڑکے کے اوپر پنچایت بٹھایا۔ پھر گول گھاٹ میں بھی بٹھایا۔ لڑکا پنچ کے سامنے بولا کہ خیر ٹھیک ہے۔ ہم جا کر لڑکی کو رخصتی کرالے آویں گے نہیں تو وہاں کھانا خرچہ دیں گے لیکن وہ بھی نہیں دیتا ہے۔ اور نہ آج تک کسی طرح کا ہماری لڑکی کی خیر خبر لیتا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ لڑکے کا چال چلن اچھا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہیکہ وہ ہماری لڑکی کو بھی نہیں رکھ سکے گا۔ اس لئے آپ حضور سے گزارش ہے کہ میری لڑکی کے لئے آپ راستہ شرع سے ڈھونڈ کر نکال دیں کہ ان کا شرع سے (خلع ) بھی ہو جائے اور دوسری جگہ ہم ان کی شادی بھی رچا دیں۔ اس کا جواب آپ تحریر کر دیں تا کہ وقت پر کام آوے۔ المستفتی: محمد عمر الدین خاں موضع و پوسٹ حبیب پور ضلع بھاگل پور
الجواب: محمد تسلیم سے جس صورت بنے ، طلاق حاصل کی جائے ۔ خواہ کچھ دے کر یا مہر معاف کر کے تحریری خواہ زبر دستی اس سے زبانی طلاق کہلوالیں۔ جب تک وہ طلاق نہ دے دے اور عدت نہ گزر جائے۔ دوسرا نکاح ہرگز حلال نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۳۰/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ