پندرہ دن میں رخصتی نہ لانے پر طلاق کی شرط کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوال میں کہ: نظیر کی شادی ہوئی تھی حجابی وسیلہ سے جس کی مدت آج قریب قریب سات برس ہورہی ہے شادی کے وقت وسیلہ نابالغہ تھی باپ ولی بن کر نکاح کرایا تھا۔ وسیلہ جب بڑی ہوگئی تو کئی بار نظیر رخصت کر کے اپنے یہاں لا یا مگر اکثرو بیشتر نظیر کی بے توجہی پر اپنے میکے میں رہتی تھی۔ جب نظیر رحمتی لانے میں بے توجہی کرتا رہا تو پنچایت ہوئی۔ پنچایت نے ایک اقرار نامہ لکھ کر نظیر کو سنایا۔ نظیر نے اقرار نامہ سننے کے بعد اقرار نامہ پر پنچایت کے کہنے پر دستخط کیا اور منہ سے بھی کہا۔ اقرار نامہ یہ ہے ۔ ” میں شیخ نظیر پسر حافظ عطاء الرحمن بمقام دسیر تھانہ صدر ضلع پورنیہ چونکہ ہم دس گرامین پنچایت نے اس کو کہا کہ تم اپنی بیوی وسیلہ بنت محمد طاہر بمقام دسیر تھانہ صدر ضلع پورنیہ، تو پہنچوں نے نظیر کو کہا کہ اگر تم پندرہ دن کے درمیان رخصتی نہیں لاؤ گے تو تین طلاق ہو جائے گی لیکن طلاق کا نام پنچایت نے اقرار کیا نظیر نے نہیں۔ پنچایت ہونے کے بعد اس پندرہ دن کے درمیان نظیر خود رخصتی کے لئے نہیں پہونچا دو آدمی اپنا رشتہ دار چیرا بھائی کو رخصتی لانے کے لئے بھیجا۔ بیوی وسیلہ کے والد نے کہا کہ آپ لوگ رخصتی کے ذمہ دار ہیں۔ کہا کہ ہم لوگ ذمہ دار نہیں ہیں ۔ صرف لے جانے کے ذمہ دار ہیں۔ آخر کار بیوی وسیلہ کے والد نے رخصتی دونوں آدمی کو نہیں دیا۔ واپس آگئے واپس آنے کے بعد آج قریب قریب چار پانچ ماہ گزرتا ہے کہ اب تک نظیر رخصتی کے لئے کوئی تلاش نہیں کیا۔ اب صورت مذکورہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ خلاصہ تحریر فرمائیں ۔ عین کرم ہوگا ! المستفتی: محمدنظیر احمد، بمقام دبیر تھانہ صدر ضلع پورنیہ بہار
الجواب: صورت مسئولہ میں اس اقرار نامہ کی رو سے طلاقیں واقع نہ ہوئیں کہ محل کشیدہ جملہ وعدۂ طلاق ہوا نہ کہ انشاء طلاق ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۵ صفر المظفر ۱۴۰۶ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم/ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی