نکاح فضولی کے ذریعے حیلہ طلاق، شکار کے احکام اور ریڈیو کی مرمت کا کام سیکھنا
پھر اس کا کفارہ کیا ہے؟ تحریر فرمائیں۔ (۲) پاکستان ریڈیو سے ایک روز یہ مسئلہ آیا کہ شکاری جانور پر بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر گولی چلائی اور شکار گر گیا اور مرگیا تو کھانا جائز ہے۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح سے شکار وہ حلال ہے کہ نہیں؟ (۳) کیا پہلے یہ تھا کہ تیر سے شکار کیا جائے اور شکاری کتے چھوڑ دئے جائیں اور شکار مر جائے تو حلال ہو جاتا تھا ؟ آیا شریعت کے قانون سے مطلع فرمائیں۔ (۴) کیا ریڈیو کی مرمت کا کام سیکھنا ٹھیک ہے؟ جبکہ نیت یہ ہے کہ اس سے صرف گانے ہی نہیں بلکہ دینی پروگرام بھی آتے ہیں اور خبریں بھی آتی ہیں الغرض کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں کس پہلو سے سیکھنا ٹھیک ہے؟ المستفتی: محمد یونس رضا خاں قادری، ڈنڈ وہ بزرگ ،گر ہائے گنج محلہ احد نگر، فرخ آباد
الجواب: (۱) ہر بار نکاح کرنے پر طلاق مغلظہ ضرور واقع ہوگی اور نکاح نہ رہے گا اور حیلہ یہ ہے کہ یہ شخص خود نکاح نہ کرے نہ کسی کو وکیل نکاح بنائے بلکہ کوئی فضولی اس کا نکاح کردے اور یہ اسے قول سے جائز نہ کرے بلکہ فعل سے مثلا ( بوس و کنار ) سے جائز کر دے۔ کمافی الدر المختار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) ہاں اور اب بھی یہی حکم ہے مگر شرط یہ ہے کہ تیر بسم اللہ پڑھ کر پھینکا اور کتے میں شرط یہ ہے کہ ایسا سدھایا ہوا ہو کہ شکار خود نہ کھائے بلکہ شکاری کے لئے روک لے تو ایسے کتے کا شکار بعد ذبح حلال ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) ریڈیو کی مرمت کا کام سیکھنا بلاشبہ جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۷ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی