تین بار کہا کہ ہاں لڑکی آزاد ہے پھر کہتا ہے طلاق سمجھ کر نہیں کہا تھا!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے اپنی بیوی کو میکے پہونچا دیا ہے اور خرچ اس کا نہیں دیتا ہے اور اس کی بیوی کو میکے گئے ہوئے آج غالباً چھ ماہ ہو گئے اور ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی اور اب زید اپنی بیوی کو لے جانا چاہتا ہے لڑکی کے والدین نے اپنی خورا کی کا دعویٰ کیا ہے کہ جتنے روز ہمارے گھر ٹھہری ہے اس کی خورا کی دیجئے اس کے بعد لے جائیے۔ زید کہتا ہے کہ ہمارے پاس اتنی رقم نہیں کہ ہم دیں اور لڑکی کے والدین کہتے ہیں کہ خرچ نہیں دیں گے تو طلاق دیجئے۔ تولڑکا اس بات پر راضی ہو گیا۔ پنچایت ہوئی اس کے اندر طلاق نامہ لکھا گیا اور جب زید کو دیا گیا صحیح کرنے کو تو ایک شخص نے روک دیا پھر دوبارہ دیا گیا تو دوسرے نے روک دیا پھر دوبارہ دیا گیا تو تیسرے شخص نے کہا صحیح نہیں کیا پھر ایک شخص نے کہا کہ کیا لڑکی تمہاری طرف سے آزاد ہے تو اس نے تین بار کہا کہ ہاں لڑکی آزاد ہے تو کیا لڑکی نکاح سے خارج ہوئی یا نہیں؟ اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔ (نوٹ): پھر زید ایک ہفتہ کے بعد آیا اور کہا کہ میں لفظ آزادطلاق سمجھ کر نہیں کہا ہوں ۔ المستفتی: حافظ امیر الدین گوماں ہیرہ چوڑی محلہ پوسٹ گوماں ضلع ۲۴/ پرگنہ
فی الواقع اگر زید نے اس جملہ سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی تو طلاق نہ ہوئی مگر جبکہ مجلس میں طلاق کا ذکر ، چلا ، یا ہوا اور اس نے یہ جملہ کہا تو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ۔ عدت کے اندر خواہ بعد عدت نکاح جدید بہ رضائے زن بہ مہر جدید کر سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ