میاں بیوی میں سے کسی کو عدد طلاق یاد نہیں تو کیا حکم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: زید کا گھر سے باہر کچھ دیگر اشخاص سے جھگڑا ہوا۔ اس کے فوراً بعد جب وہ گھر آیا تو اس کا اپنی بیوی سے اس بات پر جھگڑا ہو گیا کہ وہ اپنے میکے یعنی اپنے ماں باپ کے گھر نہ جائے۔ جبکہ اس کے پہلے اس کی بیوی کو اس نے اجازت دے دی تھی۔ تکرار اتنی بڑھی کہ زید نے کہ دیا کہ اگر تو میری بلا اجازت اپنے والدین کے گھر جائیگی تو میں طلاق دے دوں گا۔ زید کے منع کرنے پر بھی نہ مانی پر زید کی زبان سے طلاق کے لفظ نکل گئے۔ لیکن یہ زید کو بھی پتہ نہیں کہ طلاق کے الفاظ کتنی بار کہے۔ زید کی بیوی بھی غصے میں تھی۔ اس کو بھی دھیان نہیں کہ زید نے کیا کہا اور کتنی بار کہا۔ اور وہ اپنے دونوں بچوں کو لے کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی ۔ اب دونوں کے دماغ معمول پر ہیں۔ دونوں کے رشتہ داروں نے زید سے اصلیت معلوم کی تو اس نے جواب دیا کہ اس وقت میں غصے میں تھا۔ میں نے طلاق کا لفظ استعمال ضرور کیا لیکن مجھے پتہ نہیں کہ کتنی بار کہا۔ آپ سے استدعا ہے کہ (اس بارے میں ) شریعت اسلام میں علمائے دین کیا فرماتے
الجواب: مستفتی: عبد الصمد صاحب جی نمبر 20B پی ایل جی کی بکلومی ٹائر پور پٹی ، رنا درائی ضلع اٹاہ، یوپی صورت مسئولہ میں زید پر اپنے غالب گمان کے بموجب عمل لازم ہے۔ اگر زید کو غالب گمان یہ ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں تو تین طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہے اور زید کی بیوی اس پر حرام اب بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی اور اگر غالب گمان دو یا ایک طلاق کا ہے تو اسی کا اعتبار ضرور اور اگر غالب گمان کچھ نہیں تو ایک طلاق کا حکم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ