شوہر کا بیوی کو غیر مسلم کے ہاتھ فروخت کرنا اور تین بار زبانی طلاق دینے کا حکم
میں نے تجھے طلاق دی تین بار کہا، اب تجھے رکھنا منظور نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک لڑکی فریده بانو ، بنت طاہر بخش کا نکاح خلیل احمد ابن نصر اللہ کے ساتھ ۱۹۷۸ء میں ہوا تھا۔ ہر وقت مارتا پیٹتا رہتا تھا۔ اس کے بعد خلیل احمد فریدہ بانو کو ایک غیر مسلم کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے۔ لڑکی فریده بانو کو جب یہ پتہ چلا کے مجھے ایک غیر مسلم سے بیچ دیا ہے تو وہ وہاں سے اپنا ایمان اور اپنی عزت و آبرو بچانے کے لئے وہاں سے فرار ہوگئی اور اپنے شوہر کے رشتہ دار کے یہاں پر پناہ لی۔ خلیل احمد نے چھا کہ ا کیا۔ لڑکی کو پکڑ کر مارا پیٹا پھر اپنے مکان پر لے آیا۔ پھر اپنے گھر پر مارلگائی۔ بہت زیادہ زدوکوب کیا اور خلیل احمد نے مارتے ہوئے کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی۔ تین بار کہا اور اب تجھے رکھنا منظور نہیں ۔ فریدہ بانو پیدل اپنے میکہ روتی پیٹتی چلی آئی۔ اب اپنے میکہ میں رہتے ہوئے تین سال ہوگئے ہیں ۔ فریدہ بانو کا نکاح دوسری جگہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ زبانی طلاق دینے سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ کیونکہ گواہ کوئی نہیں۔
سائل: طاہر بخش مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ نوازش ہوگی۔ بینوا تو جروا ! الجواب: موضع بڑے پورہ تحصیل پیلی بھیت ، تھانہ امر یا پرگند، جہان آباد، پیلی بھیت اگر یہ واقعہ ہے کہ خلیل احمد نے تین طلاقیں فریدہ بانو کو دے دی تھیں تو فریدہ با نوخلیل احمد کے نکاح سے باہر اور اس پر ایسی حرام کے بے حلالہ اُسے حلال نہ ہوگی ۔ اب دوسرے سے نکاح اُسے حلال ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۰ / جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ