ایک طلاق رجعی اور حمل کی صورت میں مزید طلاق کے وعدے کا حکم
زید سے مراد محمد ریاض الحق قادری اپنی زوجہ کو کہا حسمن خاتون کو کہ ”میں نے اپنی زوجہ کو ایک طلاق دے دی اور اگر حمل سے نہیں ہوگی تو میں اس کو تین طلاق دے دوں گا اور حقیقت میں حمل ہے اب زید کے لئے کیسی ہے اور شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرمائیے ۔ فقط المستفتی: محمد فرید احمد، بٹوہر والولہ، بہاری
الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی واقعی ہوگئی عدت ( کہ وضع حمل ہے ) کے اندر رجعت کا اختیار ہے۔ جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ اور خط کشیدہ جملہ سے طلاق واقع نہ ہوئی کہ طلاق دے دوں گا وعدہ طلاق ہے ، نہ کہ انشاء طلاق۔ فی الحال تو اگر وہ یوں کہتا کہ اگر حمل سے ہوگی تو تین طلاق دے دوں گا، جب بھی طلاقیں واقع نہ ہوتیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله