نادانستگی میں طلاق نامہ پر دستخط کرانے کا حکم جبکہ نیت صلح کی تھی
یہ سمجھ کر اس کا غذ میں دستخط کر دیتا ہے کہ اس میں ہم دونوں کی لڑائی پر دوسرے لوگوں کو سر براہ بنایا ہوگا تا کہ وہ ہمارے اختلافات کا مناسب حل نکالا کریں گے، یہ سمجھ کر دستخط کر دیتا ہے مگر کچھ دنوں کے بعد جب وہ بیوی کو بلوانے کے لئے رشتہ داروں سے کہا تو پتہ چلا کہ وہ کاغذ جس میں اس سے دستخط لئے گئے ہیں وہ تو طلاق نامہ تھا جبکہ لڑکے کے ہوش و خیال میں بھی یہ نہیں تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے اور اب اس کے بعد عورت میرے لئے از روئے شریعت حرام ہوگی۔ لہذا لڑکے کا کہنا ہے کہ جب میں نے بنا پڑھے اردو نہ جاننے کی وجہ سے فیصلہ نامہ سمجھ کر دستخط کئے نہ کہ طلاق نامہ سمجھ کر ۔ تو اب طلاق کیسے واقع ہوگی ؟ بہر حال اب سوال یہ ہے کہ یہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟ امید ہے کہ جواب دیں گے۔ فقط المستفتی محمد اصغر خاں صاحب معرفت کمال الدین صاحب ٹاٹالائن کیمپ نمبرا، کوار نمبر ۸۰، بھلائی ضلع درگ (ایم پی )
الجواب: اگر یہ سچ ہے کہ زید کو طلاقنامہ کے مضمون کی مطلق خبر نہ تھی تو اس طلاقنامہ میں درج طلاقیں واقع نہ ہوئیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۰ / جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ