دھوکہ باز شوہر اور مشکوک حالات کی وجہ سے طلاق حاصل کرنے کے حوالے سے سوال
بکر کے یہاں شادی کرنے پر راضی کر لیا۔ زید اس راز کو نہیں سمجھ سکا کیونکہ زید حافظ قرآن شریف ہے اور اسلامیہ مدرسہ میں بچوں کو تعلیم عربی دیتا ہے اور زید کا لڑکا بھی حافظ قرآن شریف اور رمضان المبارک میں کلام پاک سناتا ہے اور قرآت کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ بکر نے شادی میں بجائے سونے کے رول گولڈ یعنی پیتل کا زیور نکاح میں دیا۔ لڑکی رسم کے مطابق بکر کے گھر ایک گھنٹے کے لئے رخصت ہو کر گئی اور جب واپس آئی تو محلے کی عورتوں نے دیکھا تو زیور سونے کا نہیں ہے فوراً بکر کو بلایا اور معلوم کیا۔مگر بکر نے کوئی خاص جواب نہیں دیا اور خاموشی سے گھر چلا گیا اور بہت دنوں تک زید کے گھر نہیں آیا۔ کچھ عرصہ کے بعد جب سب لوگ جمعہ کی نماز میں تھے زید کی لڑکی کو گھر سے پکڑ کر گھسیٹ کر اپنے گھر لے جارہا تھا، محلے کی عورتیں اور کچھ آدمی آگئے اور انہوں نے چھڑا یا بکر اور اس کی ہمشیرہ کو بلایا اور سمجھایا گیا کہ تم کوئی مضبوطی لڑکی کی طرف سے ایسی کر دو جس سے ہمیں امید ہو جائے کہ تم لڑکی کو باقاعدہ اپنی زوجیت میں رکھو گے اور اس کے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کرو گے۔ اگر ہو سکے تو مہر متقبل میں یہی جمع کر دو مگر کسی بھی صورت میں بکر اور اس کی ہمشیرہ راضی نہیں ہوئے اور برابر یہی کہتے رہے ہمارے ساتھ رخصت کر دو بکر اور اس کی ہمشیرہ کے چال چلن کے بارے میں خلاصہ کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ شرع منع کرتا ہے۔ زید بہت غریب آدمی ہے اور عزت کی بہت پر واہ کرتا ہے عرصہ چھ سال کا ہو گیا لڑکی جوان ہے اور بکر کی طرف سے کوئی امید قوی نہیں ہے کہ وہ کیا سلوک کرے بکر اور اس کی ہمشیرہ دونوں ضلع نینی تال میں جنگل کے کنارے وہاں سکھوں کی آبادی ہے، کوئی دور دور مسلم آبادی نہیں ہے، رہتے ہیں زید موضع بھکاری پور ضلع پیلی بھیت میں رہتا ہے اور پہلے بکر بھی یہیں رہتا تھا فی الحال بکر ضلع نینی تال میں رہتا ہے جواب سے مطلع فرمائیے ۔ عین مہربانی ہوگی۔ فقط راقم : حافظ فضل احمد ولد عبد الغنی موضع بھکاری پور ضلع پیلی بھیت
الجواب: سنگر سے جس طرح ممکن ہو ، طلاق لی جائے۔ خواہ مہر معاف کر کے یا کچھ دے کر تحریری خواہ حاکم یا اہل اثر کے دباؤ سے زبانی طلاق کہلوالیں۔ بکر جب تک طلاق نہ دے دے اور عدت نہ گزر جائے دوسرا نکاح ہرگز حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم كتاب الطلاق باب الطلاق فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۴/ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ