طلاق کے بعد دیور سے نکاح ہوا پھر بعد عدت شوہر رکھ سکتا ہے!
مکرمی محترم عالی جناب مفتی کرام! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ: (1) ایک شخص نے اپنی زوجہ کو کچھ تنازعہ کی وجہ سے طلاق دے دی ہے۔ اس کے بعد اس شخص کے بھائی نے اس عورت سے نکاح کر لیا ہے اور ایک رات وہ عورت دوسرے نکاح والے شخص کے ساتھ ہمبستر رہی۔ اور صبح کو اس شخص نے بھی طلاق دے دی۔ اس کے ڈیڑھ سال بعد پہلا خاوند واپس اس عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ نکاح از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟ (۲) نکاح کے وقت دوسرے خاوند کی عمر ۷ ارسال تھی۔ کیا یہ شخص بالغ ہے؟ (۳) اس دوسرے خاوند اور اس عورت کے مطابق انہوں نے اس ایک رات میں صحبت کی تھی۔ کیا شریعت کے لئے اتنا کافی ہے؟ یا اور کسی ثبوت کی ضرورت ہے؟ المستفنى : محمد نور پولو ٹیکنک کا جل، بیکانیر ( راجستھان)
الجواب: (1) اگر دوسرا نکاح عدت گزرنے کے بعد ہوا تو صحیح ہوا اور وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگئی اور اگر عدت میں ہوا تو عورت پہلے کے لئے حلال نہ ہوئی کہ نکاح عدت میں نادرست ہے اور یہ حکم اس صورت میں ہے کہ شوہر اول نے تین طلاقیں دی ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے شک ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہی کافی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۷ ذوالحجہ ۱۴۰۰ھ