تین طلاق کے بعد عورت کی حرمت اور سسرال والوں کے رویے کا حکم
واقع ہوگئی یا نہیں؟ اب زید کی سسرال والے زید کی بیوی کو زید کے پاس بھیجنے سے منکر ہیں۔ لہذا اس صورت میں کیا ہونا چاہئے اور جو سسرال والے زید کے ساتھ نادانی سے پیش آئے اور اتنے دن کم از کم ایک ماہ سے زید کی بیوی کو زید کے پاس نہ بھیجا اگر اس ایک ماہ میں حمل قرار پاتا تو ان لوگوں کے لئے کیا حکم ہے اور کیا ہونا چاہئے؟ براہ کرم مدلل و مفصل جواب باصواب بحکم قرآن و حدیث عنایت فرمایا جائے۔ بینوا تو جر وا! المستفتی: محمد منے خاں، محلہ قلعہ، آنولہ ضلع بریلی شریف
الجواب: فی الواقع اگر زید نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو اس کی بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ جب تک دوسرے جائز شوہر سے جماع ہو کر اس سے طلاق کے بعد عدت نہ گزارے، زید کو اس سے نکاح حرام ہے۔ مگر طلاق کا ثبوت دومرد یا ایک مرد و دو عورت عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے۔ لہذا جب تک شہادت شرعیہ اس امر پر کہ زید نے تین طلاقیں دی ہیں، نہ گزرے، طلاقیں ثابت نہ ہوں گی ۔ اور معمولی غصہ جس سے عقل مختل نہ ہو، وقوع طلاق سے مانع نہیں اور بیان مذکور سے طلاق دیتے وقت عقل کا مختل ہو نا معلوم نہیں ہوتا بلکہ بعد طلاق کچھ حرکات غیر معتدلہ کا ظہور معلوم ہوتا ہے۔ لہذا اس بیان کے بموجب زید نے اگر فی نفس الامر طلاقیں دیں تو واقع ہو گئیں ۔ ہاں اگر خوب تحقیق ہو کہ زید کی عقل طلاق کے وقت مختل تھی تو حکم طلاق نہ ہوگا اور زید سے جو لوگ بلا وجہ مار پیٹ وغیرہ بدسلوکی سے پیش آئے ہوں سخت ظالم جفا کارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں۔ ان پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ