ڈر کے مارے طلاق دے دی تو کیا ہوگئی؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: میری شادی ہوئے ، گیارہ سال ہو گئے ۔ رقیہ بیگم سے جس سے ۲ رلڑ کے اور ایک لڑکی ہے، میں قریب ڈیڑھ سال سے اپنی سسرال میں رہ رہا تھا۔ جس میں میرے ۲ رسالے بھی رہتے ہیں۔ چندہ میاں اور اسلم میاں۔ اسلم میاں نے اپنی بیوی کو تین سال ہوئے ،طلاق دے دی۔ اس کی بھی ایک لڑکی ہے ۔ چندہ میاں کے بچے بھی اسی مکان میں رہتے ہیں ۔ ۱/۲ پریل ۱۹۸۱ء بروز جمعرات کو آٹھ بجے صبح کو میری بیگم سے میری تکرار ہو رہی تھی کہ چندہ میاں ہم دونوں کے بیچ میں بول اُٹھا اور لڑائی لڑنے لگا۔ لڑائی میں گالی گلوج بھی ہوئی اور بات بڑھتی چلی گئی ۔ چندہ میاں نے مجھ سے کہا کہ اس کو فیصلہ دے دو میں نے کہا تمہارے بھی تین بچے ہیں تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دے دو ۔ پھر چندہ میاں نے مجھ سے کہا اصل رعایت اللہ خاں سے پیدا ہو تو اس کو طلاق دے دو۔ اسلم میاں لاٹھی لے کر مجھے مارنے آگئے ، انہوں نے بھی کہا کہ طلاق دے رہے ہو یا نہیں؟ ان لوگوں نے میرا بُری طرح سے پیچھا لیا اور کہا طلاق دو نہیں تو تمہاری ہڈی پسلی تو ڑ کر الگ کر دینگے اس غصے میں میرے منھ سے ۲ بار طلاق طلاق نکل گیا محلہ کے لوگ و عورتیں وغیرہ میرے اس جھگڑے کا تماشہ دیکھ رہی تھی اور سن رہی تھی اس کے بعد میرا سامان میرے سالے نے اپنی طرف رکھ لیا اور دھکہ دے کر باہر نکال دیا۔ میں تین بچوں کو لے کر وہاں سے چلا آیا۔ سنا ہے کہ میرے سالوں نے اپنی بہن رقیہ بیگم کوعدت پر بٹھا دیا ہے۔ عدت کے بعد رقیہ بیگم کی شادی اور کہیں کرنے کا خیال ہے اور کچھ لوگوں نے خبر دی مجھے تمہاری بیگم کو ہم نے مزار شریف پر جاتے دیکھا ہے۔ لہذا علمائے دین سے عرض حال ہے کہ اس مضمون پر غور فرمائیں۔ طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور ایسی حالت میں عدت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ جو علمائے دین فرما ئیں وہی میرا فیصلہ ہوگا ! المستفتی : عابد اللہ خاں ولدیت رعایت اللہ خاں ساکن محله شاه آباد ضلع بریلی شریف (اتر پردیش)
الجواب: اللہ تعالیٰ کو ہر غیب و شہادت معلوم ہے اور حکم اس کا ہے جو جھوٹ بولنے سے نہ بدلے گا۔واقعہ اگر یہی ہے جو درج سوال ہوا تو آپ کی بیوی پر دور جعی طلاقیں واقع ہو گئیں ۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے۔ جبکہ پہلے ایک طلاق نہ دے چکے ہوں۔ رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو تقی مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۳ / جمادی الآخر ا ۱۴۰ھ