طلاق رجعی کے بعد عدت گزرنے پر رجعت، تجدید نکاح اور نان و نفقہ کے احکام
(۲) کیا ایسی صورت میں رحمت اللہ کو اپنی زوجہ سے رجوع کر لینے کا اختیار ہے؟ (۳) کیا زوجین باہم تجدید نکاح کے مجاز ہیں؟ (۴) بصورت رضامندی زوجین بلا حلالہ جدید طور پر نکاح کر سکتے ہیں؟ (۵) نان و نفقہ اور مہر کی ادائیگی رحمت اللہ کو واجب ہے یا نہیں؟ (1) نیز لڑکے کی پرورش کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ (۷) فریقین کی رضامندی یا ناراضگی کا شرعی کیا اثر ہے؟ المستفتی: مفتی محمد تراب الدین صدیقی خطیب باؤس نمبر ۵۵-۳ دسو انگر آپ آئی۔ ٹی بی ہینڈ ، ناندیڑ
الجواب: (۱) صورت مسئولہ میں اگر رحمت اللہ نے لفظ صریح سے طلاق دی مثلا طلاق دی“ یا ”چھوڑ ا کا لفظ استعمال کیا تو ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی اور اگر اس کی زوجہ کو دوسری طلاق کے وقت تین حیض کامل آکر ختم ہو گئے تھے تو دوسری واقع نہ ہوئی اور اگر ہنوز تین حیض پورے نہ ہوئے تھے کہ اس نے دوسری طلاق دی تو دوسری بھی واقع ہوئی۔ اب رحمت اللہ ایک طلاق کا مالک رہا، جب کبھی دے دے گا، بیوی اس پر حرام ہو جائے گی بے حلالہ کبھی حلال نہ ہوگی اور اگر رحمت اللہ نے شرعی طور پر ایسے طہر میں طلاق دی جس میں جماع نہ کیا تھا تو اس کا طلاق دینا شرعی طریقہ کے مطابق ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲، ۳) ہاں، برضائے زن بمہر جدید ۔ اور رجعت کا اختیار نہیں کہ عدت گزرگئی ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) ہاں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) عدت کا نفقہ اگر مقررتھا تو رحمت اللہ پر اسے دینا لا زم ہے اور مہر کی ادائیگی بھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) پرورش طفل کی ذمہ داری ماں پر ہے اور اسے اس کا خرچہ شرع رحمت اللہ دے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) جو ناحق ناراضگی کا مرتکب ہوا وہ گنہ گار ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۵ / جمادی الآخره ۱۴۰۷ھ