تمہارے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھاؤں تو تمہیں تین طلاق ہے، کہنے کے بعد کیا صورت اپنائی جائے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذامیں کہ: بکر سخت بیمار تھا، بکر کو کمزوری زیادہ تھی اس حالت میں بکر نے اپنی ہندہ سے کہا کہ جلد سے جلد میرے لئے کھانا تیار کر دو اس پر بکر کی ہندہ نے آکر کے یہ کہا بُرے لفظوں میں کہ تمہیں صرف کھانا ہی بنا کر کھلاتی رہوں یہ ہم سے نہیں ہوسکتا ہے۔ جس پر بکر نے اپنی ہندہ سے کہا کہ آج کی تاریخ سے تمہارے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھاؤں تو تمہیں تین طلاق ہے۔ لہذا تقریباً ڈیڑھ سال ہونے کو جارہا ہے لیکن ابھی تک بکر نے اپنی ہندہ کا بنایا ہوا کھانا نہیں کھایا ہے اور بکر آج تک اپنی ہندہ سے علیحدہ ہے۔ اب بکر اور ہندہ کا خیال یہ ہے کہ جو شرع مطہرہ کا حکم ہو، اس کے مطابق کیا جائے۔ اب اس بارے میں جو شرع کا حکم ہو قرآن وحدیث سے جواب مرحمت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی !
الجواب: المسلطانی محمد خلیل الرحمن ، ساکن جگرائن ضلع مدھوبنی ( بیہار ) صورت مسئولہ میں چارہ کار یہ ہے کہ بکر ایک طلاق ہندہ کو دے دے اور عدت گزرنے دے، جب عدت گزر جائے ، ہندہ اسے اپنے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھلائے۔ پھر دونوں نکاح جدید بہ مہر جدید گزرجائے اسےا۔ کرلیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۶ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی