تین طلاقوں کے بعد رجوع اور حلالہ کی شرعی حیثیت اور حاملہ کے مہر سے متعلق سوال
نہیں کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں محلہ والوں نے بتایا کہ آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے۔ قاضی صاحب نے طلاق نامہ لکھا اور اس میں قاضی صاحب نے یہ لکھا کہ آپ کی طلاق ہو چکی ہے ،لڑکی سے کہا۔ اور جو بچہ آپ کے حمل میں ہے وہ آپ کو مہر میں دیا جاتا ہے یہ حضور ہوسکتا ہے یا نہیں محلہ والوں نے اور کسی بھی بزرگ نے دستخط کئے ہیں اور حضور ہمیں اس طلاق کا مطلب نہ معلوم تھا یہ سب کچھ ہمارے نہ جاننے میں ہوا ہے۔ اب حضور کوئی ایسا راستہ بتائیں کہ ہم دونوں ہمیشہ ساتھ میں رہیں دونوں میں کسی کی زندگی خراب نہ ہو سکے اور اگر حضور نے کچھ غریب پر رحم کرم نہ کیا تو دونوں کی زندگیاں برباد ہو جائیں گی۔ لہذا کوئی ایسی تدبیر نکالیں کہ ہم دونوں ساتھ ہی رہیں اور دونوں ساتھ ہی مریں۔ کیونکہ ہمیں بتایا ہے کہ حلالہ کرنے میں پھر سے آپ رکھ سکتے ہیں مگر حضور ہمیں حلالہ کرنے میں اچھا معلوم نہیں ہوتا اور لڑکی بھی کہتی ہے کہ ہم نے اپنے کانوں سے نہیں سنا کہ ہمیں شوہر نے طلاق دی ہے لڑکی کا کہنا ہے ہم جان دے دیں گے مگر کہیں نہ جائیں گے اور نہ ہماری کوئی طلاق ہوئی۔ ہم اپنے شوہر کے پاس رہیں گے ورنہ مرجائیں گے اور حضور جو غلطی ہم لوگوں سے ہوئی ہے اس کو معاف فرمائیں۔ جواب حضور مہربانی فرما کر جلد سے جلد روانہ کریں۔ المستفتی: رشید خاں ڈرائیور معرفت مؤذن شیخ رمضان قصائی منڈی مسجد ،ضلع دموہ نمبر 1
الجواب: اگر آپ نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو بیوی آپ پر حرام ہوگئی ۔ جب تک بعد وضع حمل دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد جماع پھر طلاق ہو کر عدت نہ گزرے، آپ کو اس سے نکاح حلال نہیں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۸ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ