زید کی طرف سے تین بار لفظ 'دیتا ہوں' کے ساتھ طلاق کا حکم اور صیغہ حال پر بحث
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: (1) زید نے غصہ کی حالت میں خانگی رشتہ ازدواج کی ادائیگی کی لاپرواہی میں اپنی بیوی سے تین مرتبہ کہہ دیا کہ : ”میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں، میں تجھے طلاق دیتا ہوں“۔ یا سیدی! بریلی شریف سے فتویٰ حاصل ہوا طلاق قطعی اور حلالہ کرنے کا۔ حضور کی بارگاہ عالیہ کا فتویٰ موصول ہونے کے بعد زید مستعدی سے کاربند ہے۔ یا سیدی! خادم نے حضور کو نظر ثانی کے لئے ایک عریضہ خدمت عالیہ میں روانہ کیا۔ ایک ماہ بعد دوسرا عریضہ روانہ کیا پھر کچھ عرصہ بعد زید خود ہی بارگاہ عالیہ میں حاضر ہوا۔ حضور زیارت حاضری روضۂ اقدس مدینه منوره تشریف لے گئے تھے۔ عریضہ نظر ثانی یا سیدی! ہمارے مسلک اعلیٰ حضرت میں صیغہ ماضی حال ،مستقبل کا احتیاط رکھا گیا ہے۔ حضور کرم فرمائیں۔ ایجاب و قبول میں صیغہ ماضی شرط ہے کہ قبول کرتا ہوں سے عقد قائم نہ ہوگا۔ نیت نماز میں اگر کہا گیا نیت کرتا ہوں تو نیت قائم نہ ہوئی، نماز قائم نہ ہوئی۔ ایجاب وقبول میں کہنا پڑے گا قبول کیا، نماز میں کہنا پڑے گا نیت کی ۔ یا سیدی! کرم فرمائیں فرض کی ادائیگی میں اتنا سخت احتیاط ور نہ عبادت سے محرومی ،اگر طلاق میں یہ احتیاط نہ کیا جائے تو زنا کے مرتکب ٹھہریں۔ طلاق ہمارے امام اہل سنت مجدد دین و ملت سیدنا امام احمد رضا خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے بموجب ایک بدترین لعنت ہے جس میں جتنے لوگ بھی شامل ہوں سب پر رب تبارک و تعالیٰ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے فرشتوں کی لعنت ہوتی ہے۔ حضور غور فرمائیں ایک لعنت سے بچنے کے لئے صیغہ ماضی، حال مستقبل کا فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ حضور خدمت اقدس میں عرض ہے، نکاح میں احتیاط اور طلاق کا فائدہ نہ اُٹھا کر ہمارے ان پڑھ بھولے بھالے اہل سنت و الجماعت (سنی) ہمارے آستانہ عالیہ بریلی شریف، مارہرہ مطہرہ ، مبارک پور، دار العلوم حضور مفتی نائب مفتی اعظم ہند محمد شریف الحق صاحب مدظلہ العالی کی خدمت میں نہ پہونچ کر وہابیوں دیو بندیوں کے یہاں فتویٰ لینے پہونچ جاتے ہیں۔ یہ مردود غلط سلط فتویٰ دے کر گمراہ کرتے ہیں۔ حرام گناہ کبیره حتی کہ کفر تک کا مرتکب کروار ہے ہیں۔ یا سیدی ! عوام اہل سنت اپنی جہالت میں غصہ میں اکثر
فقیر اس استفتاء کا جواب دے چکا ہے۔ حکم وہی ہے جو قاضی محمد عبد الرحیم صاحب قبلہ بستوی زید مجدہ نے دیا۔ تین طلاقیں پڑ گئیں کہ دیتا ہوں حال کے لئے متعین ہے۔ اس صیغہ سے نکاح کا منعقد ہونا اور طلاق کا واقع ہونا۔ در مختار وفتح القدیر وعقود الدرریہ وغیر ہا کتب میں مصرح ہے۔ اس فتویٰ میں ان کتب کی عبارتیں بھی غالباً درج ہوئی تھیں۔ اور نیت کرتا ہوں سے نماز باطل ہونا اعلیٰ حضرت کا مسلک نہیں ۔ پھر زبان سے اصلاً نیت کے الفاظ بولنا فرض نہیں اور طلاق مطلق نا جائز نہیں۔ نہ اعلیٰ حضرت نے اسے بدترین لعنت تحریر فرمایا۔ اگر وہ فتویٰ نہ ملا ہو تو اس کی نقل ہمراہ مرسل ہے، اسے ملاحظہ کیجئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ