زید کے تو جا میں تجھ کو چھوڑتا ہوں کہنے سے طلاق کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید کہتا ہے کہ : ” تو ہمارے گھر سے جا، تجھ کو میں نہیں رکھوں گا “۔ تب عورت بولی میں گھر سے نہیں جاؤں گی ۔ تب اس کا شوہر ہاتھ پکڑ کر مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور کہا کہ : ” تو جا، میں تجھ کو چھوڑتا ہوں۔ چار پانچ بار زبان سے کہہ کر گھر سے گھسیٹ کر باہر کر دیا۔ تب عورت روتی ہوئی کچھ دوران کے گھر سے چلی گئی تب زید کی چھی دوڑ کر اپنے گھر لے آئی ۔ شام کوزید کے چچا آئے تو اس کو بہت سمجھایا مگر اس کی سمجھ میں بات نہیں آئی۔ تین دن تک چچانے اپنے گھر میں رہنے دیا، چوتھے دن لڑکی کے باپ پہنچ گئے ۔ تب لڑکی کو اپنے ساتھ لے آئے ، لائے ہوئے تقریباًدوسال ہو گئے اس کا شوہر نہیں آیا اور کہتا ہے میں نہیں آؤں گا اور وہ بمبئی چلا گیا ہے۔ اب لڑکی چاہتی ہے کہ اپنی دوسری شادی کرلوں تو گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ اس کو طلاق نہیں ہوئی ہے۔ لڑکی کہتی ہے طلاق ہو گئی ۔ تو آپ لوگ کیا فرماتے ہیں؟ المستفتی: عبدالرحیم معرفت بہاؤالدین احمد مدرسه عزیز علوم محلہ گھوی ، ٹولہ نانپارہ ، بہرانچی شریف
الجواب: فی الواقع اگر خط کشیدہ جملہ تین بار یا زائد کہا تو تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور زید کواب اپنی بیوی سے نکاح ہے حلالہ حلال نہیں ۔ بعد عدت لڑ کی مختار ہے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۷ جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ