حاملہ کو چار طلاقیں دینے اور حمل ضائع ہونے کی صورت میں عدت اور نکاح کا حکم
میں نے اپنی بیوی کو ۴ مرتبہ طلاق دی، کہا۔ میری بیوی کے حمل کا تیسرا مہینہ چل رہا تھا اس روز کے بعد حمل ضائع ہو گیا اب میں چاہتا ہوں کہ اس لڑکی سے دوبارہ عقد کر کے اپنے گھر لے آؤں، میں اپنے کئے پر پشیمان ہوں۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اہل سنت اس بابت میں فتویٰ صادر فرما کر مشکور فرمائیں، عین نوازش ہوگی ۔ مہربانی فرما کر یہ بھی بتائیں کہ حمل گر جانے سے عدت ختم ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور عدت ختم ہو جانے کے بعد بھی مرد سے پردہ ہونا چاہئے ؟ میں ایک لمحہ بھی بچوں سے دور نہیں رہ سکتا، میرے دو بچے ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی بھی صورت حلالہ نہ ہو اور اگر ضروری بھی ہو تو میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ کوئی گناہ ہو جائے تو اس کے عوض اتنا روپیہ خیرات کرے یا نفل پڑھے یاروز ور کھے۔ اگر ایسا کچھ ہو تو میں وہ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ میں ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں کہ اس سلسلہ میں ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب سے نوازیں! المستفتی: محمد احمد صدیقی ملوکپورتاله، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی آپ پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس سے نکاح آپ کو کبھی حلال نہ ہوگا اور عدت حاملہ وضع حمل سے ختم ہو جاتی ہے اور آپ سے اس کو پردہ کرنا فرض ہے اور ایسی کوئی صورت نہیں کہ حلالہ بغیر آپ سے نکاح حلال ہو جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله