”تو مجھ سے طلاق لے لے“ سے طلاق ہوگی کہ نہیں؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: ۱۲ شوال المکرم ۱۴۰۴ھ میں اتواری مع زوجہ و بچوں کے محلہ رضا گنج قصبہ پوران پور میں مقیم ہوں ہم دونوں میاں بیوی میں کسی وجہ سے جھگڑا ہوا تو میں نے قسم کھائی کہ خدا اور خدا کے رسول کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: صورت مسئولہ میں خط کشیدہ جملہ سے طلاق واقع نہ ہوئی۔ اگر اس کے سوا کوئی لفظ طلاق کے لئے نہ بولا تو زید کی بیوی بدستور اس کی بیوی ہے اسے محض اس جملہ کی بنا پر مطلقہ جاننا اور شوہر کوملزم گرداننا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ شوال المکرم ۱۴۰۴ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۱۸۰–۱۸۱
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
شدید غصے اور جنون کی کیفیت میں تین طلاقیں دینے کا شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق
غصہ میں "مجھ سے طلاق لے لے" کہنے سے وقوع طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
طلاق نامہ پر انگوٹھا ثبت کرنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
باب: کتاب الطلاق
حاملہ کو چار طلاقیں دینے اور حمل ضائع ہونے کی صورت میں عدت اور نکاح کا حکم
باب: کتاب الطلاق
بغیر طلاق کے نکاح ثانی کی ممانعت اور بیوی کے حقوق تلف کرنے کا حکم
باب: کتاب الطلاق