طلاق نامہ پر انگوٹھا ثبت کرنے سے طلاق کے وقوع کا حکم
بعد اطلاع بر مضمون طلاق نامہ بے جبر و اکراہ برضائے خود انگوٹھا ثبت کیا تو طلاق ہوگئی ! کیا فرماتے ہیں علمائے ملت اسلامیہ مسئلہ ذیل میں کہ: زید سے لوگوں نے کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو، زید نے طلاق دینے سے انکار کر دیا مگر جب طلاق نامہ لکھا گیا تو کچھ لوگوں کے سامنے زید نے طلاق نامہ پر انگوٹھا لگا دیا، طلاق نامہ کا مضمون مندرجہ ذیل ہے کہ میں نے طلاق دی اور اس عورت سے میرا کوئی واسطہ نہیں“۔ عورت نے بھی مہر معاف کر دیا اور ان دونوں فریقین میں سے کسی کو کوئی کارروائی کرنے کا حق نہیں پہونچتا جب لوگوں نے زید سے طلاق دینے کو کہا تو زید نے کہا میری بیوی کو میرے سامنے لاؤ تو لوگوں نے کہا کہ اس وقت وہ سامنے نہیں آسکتی ہے چونکہ وہ بے ہوش ہے۔ زید نے اپنی اہلیہ کو زبانی طلاق نہیں دی ہے اور طلاق نامہ میں طلاق کا لفظ لکھا گیا ہے اور مندرجہ بالا طلاق نامہ پر زید نے انگوٹھا بھی لگادیا۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں از روئے شرع کون سی طلاق واقع ہوگی ؟ بینوا توجروا مذکورہ طلاق واقع ہوگی؟ بینوا المستفتی: لیاقت حسین ، ساکن فرید پور، بریلی شریف
الجواب: صورت مسئولہ میں اگر زید نے طلاق نامہ پر بعد اطلاع بر مضمون طلاق نامہ بے جبر واکراہ برضائے خود انگوٹھا ثبت کیا تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی کا حکم ہے، عدت کے اندر اسے حق رجعت ہے اور رجعت کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دو مرد عادل کے سامنے کہے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ ربیع الاول ۱۳۹۶ھ