شوہر اور بیوی کے درمیان طلاق کے الفاظ میں اختلاف اور ثبوتِ طلاق کے لیے گواہی کی ضرورت
شوہر کہتا ہے میں نے " تم کو طلاق دے دوں گا“ کہا ہے جبکہ بیوی کہتی ہے کہ " تم کو طلاق دی ، طلاق دی ، طلاق دی“ کہا ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید اور ہندہ کے درمیان جھگڑا ہوا اور زید نے کہا کہ اگر زیادہ پریشان کرو گی تو تم کو طلاق دے دوں گا۔ اور ہندہ کہتی ہے کہ زید نے کہا کہ تم کو طلاق دی ، طلاق دی، طلاق دی۔ گواہ ایک عورت ہے، وہ کہتی ہے کہ میں نے بھی سنا کہ زید نے طلاق دی ہے جیسا کہ ہندہ کا بیان ہے۔ اب اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ خلاصہ تحریر کریں ، عین کرم ہوگا۔ المستفتی: محمد ابراہیم گر به بریجت ، امیر فورس اسٹیشن، بریلی شریف
الجواب: جبکہ شوہر منکر ہے تو بے گواہان شرعی ) کہ دو مرد عادل یا ایک مرد و دوعورت عدول ہیں) کی شہادت کے طلاق ثابت نہ ہوگی۔ مگر جبکہ عورت تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اس پر لازم ہے کہ شوہر کو اپنے او پر قابو نہ دے اور اس سے ایسی بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ اور شوہر پر لازم ہے کہ اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله