بیوی کے سامنے تین طلاق دے کر نیت کا انکار کرنے اور اضافت کے لزوم کا مسئلہ
بیوی کے سامنے تین طلاق دے کر اب کہتا ہے نیت طلاق کی نہ تھی! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: (1) زید نے بہت سے لوگوں کے سامنے جن میں اس کی بیوی بھی شامل ہے،صرف طلاق ، طلاق، طلاق کا لفظ تین یا اس سے زیادہ بار کہا تو کیا زید نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی لیکن زید کہتا ہے کہ میں نے طلاق طلاق طلاق کے الفاظ کہے ہیں لیکن اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے۔ (۲) کوئی مومن اگر اپنی زبان سے طلاق ، طلاق ، طلاق کہہ دے تو کیا طلاق ہو جائے گی؟ طلاق دینے کے لئے تین بار لفظ طلاق ضروری ہے کیا بیوی کی طرف اشارہ یا بیوی کو مخاطب کرنا یعنی اضافت ضروری ہے؟ فقط المستفتی: ماسٹر جمال الدین، بریلی
الجواب: لفظ طلاق صریح ہے اور صریح محتاج نیت نہیں اور عرف عام شاہد ہے کہ آدمی طلاق اپنی بیوی کو دیتا ہے نہ کہ کسی اجنبیہ کو، یا درودیوار کو ۔ تو اضافت دلالۃ و عرفا موجود ہے ۔ لہذا بنظر ظاہر عرف ،حکم طلاق ہے اور زید جو کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے، اس پر لازم ہے کہ بیان کرے کہ طلاق ، طلاق ، طلاق کہنے سے اس کی کچھ نیت تھی یا کچھ نہیں ؟ بعد بیان زید اس کے بیان کا حکم تحریر ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی