تین طلاق کے وقوع اور حلالہ کا شرعی طریقہ کار
سوال
دی، میں نے تجھے طلاق دی۔ اس وقت وہ ایک دودھ پیتی بچی کی ماں تھی اور یہ الفاظ کہتے وقت ایک اور عورت کے سوا کوئی موجود نہ تھا۔ دو تین دن بعد پھر آپس میں راضی ہو گئے اور اس کے بعد اور دوسرے بچے بھی ہوئے۔ تو ابھی وہ عورت زید کی زوجیت میں ہے یا نہیں؟ المستفتی: محمد حسین را دیگر سرائے ، سنجل ضلع مراد آباد
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: تین طلاقیں واقع ہو کر عورت زوجیت سے نکل گئی، مردوزن دونوں پر فورا علیحد گی فرض ہے ور نہ مبتلائے زنا مستحق غضب جبار رہیں گے۔ عورت اگر زید کے ساتھ رہنا چاہے تو بے حلالہ چارہ کار نہیں ہے۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت دوسرے جائز شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر پھر عدت گزار کر زید سے نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵رذی الحجہ ۱۴۰۴ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۱۷۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ایک طلاق رجعی واقع ہونے کی صورت میں رجعت کا شرعی طریقہ کار
باب: کتاب الطلاق
طلاق رجعی، حیات عیسیٰ و خضر، دیوبندی عقائد، امداد مدارس اور تعزیہ داری کا حکم
باب: کتاب الطلاق
حالت حمل میں طلاق کے وقوع کا شرعی حکم
باب: کتاب الطلاق
طلاق دے کر عدد بھول جانے کی صورت میں غالب گمان پر عمل کا حکم
باب: کتاب الطلاق
غصہ کی حالت میں ”نکاح سے خارج“ اور ”بہن“ کے الفاظ سے طلاق کا وقوع
باب: کتاب الطلاق