غصہ کی حالت میں ”نکاح سے خارج“ اور ”بہن“ کے الفاظ سے طلاق کا وقوع
زید نے اپنی زوجہ ہندہ خورشید جہاں کو سخت غصہ کی حالت میں مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ ادا کئے تین بار کہ: ”ہندہ آج سے تم میرے نکاح سے خارج ، ہندہ آج سے تم میرے نکاح سے خارج اور ہندہ آج سے تم میری بہن ہو، ہندہ آج سے تم میری بہن ہو، ہندہ آج سے تم میری بہن ہو“۔ (ہندہ خورشید زید کی بیوی ہے ) یہ تمام الفاظ بنیت طلاق ادا کئے گئے ہیں۔ لہذا ایسی صورت میں مندرجہ ذیل امور دریافت طلب ہیں : (۱) کیا مندرجہ بالا الفاظ اور زید کا طریقہ کار اطلاق طلاق کے لئے کافی ہیں؟ اور کیا مغلظہ طلاق واقع ہوگئی ؟ یا نہیں؟ (۲) اگر طلاق مغلظہ واقع نہیں ہوئی تو اب رجعت کی کیا صورت ہوگی ؟ جواب باصواب سے مطلع فرمائیں! اگر طاق مخالف واقع تواب کیا ہوگی؟ المستفتی: خورشید ولد سعید احمد ، بلاک نمبر ۷۰، کواٹر نمبر ۲ سیکٹر S/E نیوکراچی ۳۹ (پاکستان)
الجواب: زید کا یہ جملہ آج سے تم میرے نکاح سے خارج ہو کنایات طلاق سے ہے اور کنایہ سے جب طلاق کی نیت کرے یا مجلس میں طلاق کا ذکر جاری ہو ، طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔ لہذا اگر فی الواقع زید نے جملہ مذکورہ بہ نیت طلاق بولا تو ہندہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ۔ عدت کے اندر خواہ عدت کے بعد نکاح جدید بمهر جدید برضائے ہندہ ممکن ہے اور جملہ مذکورہ کی تکرار ۲ بار پہلے کی خبر دینے پر محمول ہے۔ مگر زید نے اگر ہر بار طلاق کی نیت کی ہو تو تین طلاقیں مغلظہ واقع ہو گئیں اور ہندو زید پر ایسی حرام ہو گئی کہ اب بے حلالہ کبھی زید کو حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۳۰/ جمادی الآخر ه ۱۴۰۰ھ