حلالہ کے لئے دوسرے شوہر سے جماع یعنی خلوت صحیحہ کی شرط
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متن اس مسئلہ میں کہ : زید نے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دے دی اور پھر اپنی طرف رجعت کرنا چاہا تو ہندہ نے تین ماہ دس دن عدت گزار کر دوسرے سے عقد ثانی کیا بغیر خلوت صحیحہ کے زید نے ہندہ کے دوسرے شوہر بکر سے چوبیس گھنٹے کے بعد ہندہ کا سسر یعنی خسر نے بکر سے طلاق دلوا کر ہندہ کا نکاح پھر اپنے لڑکے زید سے کر دیا۔ قاضی نے اعتراض کیا کہ بغیر خلوت صحیحہ کے زید سے نکاح نہیں ہوگا اور میں نکاح نہیں پڑھاؤں گا ہندہ کے خسر نے کہا کہ آپ نکاح پڑھائے شریعت کا سارا بار ہمارے سر ہے۔ آپ کے اوپر کوئی ہو جو نہیں ہے تو قاضی پھر ہندہ کا نکاح زید سے کر دیا اور آج عرصہ دو سال کا ہورہا ہے اور ہندہ کا خسر بھی امامت کرتا ہے۔ دریافت طلب ہے کہ شریعت مطہرہ ایسا کرنے والے کے لئے کیا حکم دیتی ہے ؟ دلیل و مفصل جواب ارسال فرما ئیں؟
الجواب: خلوت صحیحہ کے ساتھ دوسرے شوہر کا ہندہ سے جماع کرنا زید کو حلال ہونے کے لئے شرط ہے فی الواقع اگر یہ شرط نہ پائی گئی تو زید کو ہندہ سے نکاح حلال نہ ہوا اور قاضی اور زید کا والد اور دانستہ جو جو شریک ہوئے ، سب گناہگار مستوجب نار ہوئے۔ سب پر تو بہ لازم ہے۔ بے تو بہ صحیحہ قاضی وزید کی امامت ممنوع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم رجب المرجب ۱۴۰۱ھ