تین طلاق کے بعد حلالہ کی ضرورت اور بیوی کو ماں کے مثل قرار دینے کا حکم
اب و شخص رکھنا چاہتا ہے اور وہ عورت بھی رہنے پر تیار ہے لیکن عورت حلالہ کرنے پر تیار نہیں ہے وہ کہتی ہے کہ غلطی تو میرے شوہر نے کی ہے مجھے کیوں سزا ملے؟ تو کیا اس صورت مذکورہ میں طلاق ہوگی اور عورت کو حلالہ کرنا ضروری ہے؟ (۲) ایک شخص نے قسم کھائی کہ اگر میں اپنی بیوی کو رکھوں تو اپنی ماں کو رکھوں“ ۔ اب وہ شخص اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہے۔ تو اس کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں ؟ فقط والسلام !
الجواب: (1) ہاں بے حلالہ اس کے لئے چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالی کا حکم ہے: { فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجَأَ غَيْرَهُ الآية } () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ،، لاحتى تذوقى عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس طرح کہہ دینے سے بیوی ماں نہ ہو گئی ہاں گناہ ہوا۔ تو بہ کرے بھلائی کے ساتھ بیوی کو رکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ! حلالہ کو سزا بتانا غلط ہے شوہر نے طلاق دے دی عورت بعد عدت آزاد ہے جس سے نکاح جائز ہو، کرے۔ اسی شوہر کی طرف لوٹنے کے لئے حلالہ کی ضرورت ہے کہ اس نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا پھر یہ سزا کہاں ہوئی وہ عورت اس جملہ سے تو بہ کرے اگر وہ اس شوہر کی جانب نہ لوٹے تو اسے حلالہ کرانے کی ضرورت نہیں! قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی