بیوی کو چھوڑنے کے الفاظ 'میں نے اپنی بیوی چھوڑی' کا حکم
” میں نے اپنی بیوی چھوڑی، میں نے چھوڑی اب اس کو تم ٹھہراؤ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کی ہمشیرہ کو اس کا جیٹھ لینے آیا تھا لڑکی کو اس کے بھائی باپ بیچنے پر تیار ہو گئے ، کپڑوں پر باپ بیٹوں میں تکرار ہو گئی تو زید کے باپ نے یہ کہا کہ یہ بہنوئی کی غلطی تھی اس پر زید نے باہر آکر جہاں ہمشیرہ کا ریلوے تھا اور ہمشیرہ ریلوے پر بیٹھ گئی تھی تو زید نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی چھوڑی ، میں نے چھوڑی اب اس کو تم ٹھہراؤ یہ کہہ کر اس دن کو چلا گیا۔شریعت مطہرہ کا جواب عنایت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط والسلام ! سائل عبدالرشید، ساکن موضع بھوڑا ضلع پیلی بھیت
الجواب: صورت مسئولہ میں دو طلاق رجعی واقع ہوگئی، عدت کے اندر رجعت کرسکتا ہے، رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دومردنمازی پرہیز گار کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں واپس لیا، یہ اس صورت میں ہے کہ پہلے ایک طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ تین واقع ہو کر وہ حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ قال تعالى : على تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ ) ( اللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۱ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ (1) سورة البقره - ۲۳۰