نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے تیاری کے دوران غصے میں دی گئی طلاق کا معاملہ اور اس کی وجوہات
کیا ہے اس کام میں بھول سی ہوگئی یہ بات جان بوجھ کر نہیں، پھر میں کہتا ہوں بھول سے ہوگئی۔ بات یہ ہے جمعہ کی نماز کے لئے زید نماز پڑھنے آرہے تھے، بیوی سے کپڑے مانگے تھے، بیوی نے کپڑے دینے سے انکار کردیا ، زید کو غصہ آیا مجھ کو کپڑے دیتی ہو؟ بیوی سے کہا، بیوی بولی میں کام کرتی ہوں۔ زید نے کہا ہمارے پاس وقت کم ہے، مجھ کو نہانا بھی ہے، زید نے کہا تم مجھ کو کپڑا دیتی ہو؟ بیوی بولی تم خود لے لو کپڑے۔ زید نے بیوی سے پھر کہا مجھ کو کپڑے دیجئے مجھے کونماز میں جانے میں دیر ہو جائیگی، بیوی بولی مجھ کو نہیں معلوم نماز پڑھنے میں دیر ہو یا نہ ہو۔ زید کو اس بات میں اور بھی غصہ آیا اس بات کو زید نے بیوی سے پھر کہا، کپڑے دیدو، پھر بھی انکار کیا۔ زید نے اس گفتگو میں طلاق کا لفظ یہ جو کچھ بھی ہوا ہے،صرف خدا کی عبادت نماز فرض ادا کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر اس بات میں نماز کا مسئلہ نہیں ہوتا تو میں بیوی کو کبھی طلاق کے الفاظ ادا نہیں کرتا۔ زید کا کہنا ہے میں نے اپنی بیوی کو ختم کرنا اچھا سمجھا لیکن خدا کی عبادت میں کمی نہیں کی اور سب کچھ ہونے کے بعد نماز جمعہ پڑھی ، آج جمعہ کے دن جو جھگڑا ہوا اس بات میں نماز ہی وجہ تھی، نماز کے آگے بیوی کو کوئی چیز نہیں سمجھا۔ نماز بہت بڑی چیز ہے نماز کی وجہ سے اتنازیادہ جھگڑا ہوا ہے اس بات میں اگر نماز کی وجہ نہیں ہوتی تو میں اپنی بیوی کو الفاظ طلاق کبھی بھی ادا نہیں کرتا۔ مفتی صاحب غور سے سمجھائیے ہماری کوئی بھی بیوی ہے جھگڑا نہیں تھا صرف نماز کے بارے میں جھگڑا ہوا ہے۔ مفتی صاحب کو معلوم ہو ہم نے آپ سے اتنا لمبا سوال کیوں کیا ؟ اس لئے کہ آپ کو ہمارے دل کا حال معلوم ہو جائیگا ، نماز کی جلدی تھی وقت بہت کم تھا نماز پڑھ کے کام پر جانا تھا،سوال لکھنے میں اور الفاظ طلاق میں جو کچھ بھی غلطی ہوئی ہو آپ اس غلطی کو معاف کر دیں ۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں بیان فرمائیں۔ عین کرم ہو گا۔ جو انسان نماز کے آگے جان کی پرواہ نہیں کرتا وہ بیوی کی طلاق کو کیا سمجھے گا؟ غصہ میں اتنا کچھ لکھنے کے بعد آپ خود سمجھ سکتے ہیں اس بات میں وجہ کیا ہے یہ بھول سی ہے یا کیا ہے؟ جو انسان اسلام کے واسطے سب کچھ کرنے کو تیار رہتا ہے امید ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو آپ اس کو معاف کر سکتے ہیں۔ اگر کام کا کوئی کفارہ دینا ہو گا تو ہم دے سکتے ہیں، کفارہ دینے کے بارے میں ضرور لکھئے گا، یا د سے۔ بیوی کی تیز گفتگو سے چھٹکارہ لینے کے لئے مجھ کو یہ راستہ ( غصہ میں طلاق ) لینا پڑا ۔ اگر میں طلاق کا راستہ نہیں لیتا تو نماز جمعہ جارہی تھی۔ اس بات کا جواب ٹھیک ملنا چاہئے ۔ نماز
سائل مظہر کہ اسے غالب گمان یہ ہے کہ اس نے دو طلاقیں کہیں ۔ اگر یہی واقعہ ہے تو دو طلاقیں رجعی واقع ہو گئیں ، عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دومرد متقی و پرہیز گار کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا اور بیوی کو بھی بتادے، یہ اس صورت میں ہے جبکہ طلاق اور نہ دے چکا ہو۔ ورنہ تین واقع ہو کر عورت اس پر ایسی حرام قطعی ہے کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر و شہید و بصیر ہے اور حکم اسکا پھر اس کے حبیب سید الانبیاء علیہ وعلیہم السلام کا ہے اور مفتی کا کام اسے ظاہر کرنا ہے، جھوٹ بولنے سے حکم خدا اور رسول نہ بدلے گا اور حرام حلال نہ ہوگا بلکہ وبال زیادہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۶ھ