طلاق کے وقوع اور گواہوں کے بیانات میں اختلاف اور پردے کے پیچھے سے سننے والی گواہی کا حکم
زیدا پنی زبان سے بیان کرتا ہے کہ میں نے جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے طلاق دیدی۔ اس کے بعد فوراً دوسرے شخص نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ یہ کیا کہہ رہے ہو؟ تو میں نے ہاتھ ہٹا کر کہا: اسے میں نے یہاں سے خدا کے گھر تک طلاق دی۔اس کے بعد اس مقام سے گھر واپس آیا تو لوگوں نے زید سے کہا تم نے یہ کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: اب تو طلاق دے ہی دی۔ اب کیا کریں گے اور ہندہ حاملہ کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے کانوں سے شوہر کی زبانی یہ سنا ہے کہ میں نے طلاق دی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد کہا: یہاں سے خدا کے گھر تک تجھے طلاق دی۔ سننے والے تین شخص ہیں، تینوں کے بیان میں فرق ہے۔ گواہ اول کا کہنا ہے کہ میں نے سنا کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا: میں نے تجھ کو طلاق دی، طلاق دی۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر کہا میں نے تجھ کو طلاق دی۔ گواہ ثانی ایک مسماۃ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں نے سنا کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے تجھ کو طلاق دی، تو اگر ایسا کر یگی تو طلاق دیدیں گے ، دیدیں گے ۔ گواہ ثالث جو گھر سے باہر سے سن رہا تھا، اس کا کہنا ہے کہ میں نے سنا کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا: میں نے تجھ کو طلاق دی، پھر دوبارہ تھوڑی دیر کے بعد کہا: میں نے تجھ کو طلاق دی، دی۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ از روئے شرع کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا !
الجواب: دونوں گواہ اگر عادل ( متقی پرہیز گار) ہیں اور وہ تین مرتبہ الفاظ طلاق بولنا بیان کرتے ہیں تو صورت مسئولہ میں تین طلاقوں کا حکم ہے۔ جبکہ دونوں گواہوں نے بالمشافہ یہ الفاظ سنے ہوں ۔ مگر سوال سے ظاہر کہ گواہ ثانی باہر سے سن رہا تھا۔ اگر ایسا ہے تو اس کی گواہی نہ سنی جائیگی۔ ہندیہ میں ہے: ”لو سمع من وراء الحجاب لا يسعه ان يشهد لاحتمال ان يكون غيره اذا النغمة تشبه النغمة ) (1) الفتاوى الهندية كتاب الشهادات الباب الثاني في بیان تحمل الشهادة ، ج ۳، ص ۳۸۹، دار الفکر بیروت در مختار میں ہے: لا يشهد على محجب بسماعه منه (1) لہذا جبکہ شوہر منکر ہو اور اس نے گواہان عدول کے سامنے اقرار بھی نہ کیا ہو تو تین طلاقوں کا حکم نہیں کیا جاسکتا۔ مگر جبکہ عورت تین طلاقوں کی سچی مدعیہ ہے تو اسے لازم ہے کہ مرد سے بھاگے، جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے اور اسے ہرگز قابونہ دے۔ مفتی کا کام اظہار حکم شرع ہے اور حکم اللہ کا ہے ویس۔ جھوٹ بولنے سے حرام حلال نہ ہو جائیگا بلکہ دوہرا وبال ہوگا۔ اگر وہ دو طلاق کے اقرار میں سچا ہے تو دوطلاق رجعی کا حکم ہے، عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اس عورت سے رجعت کی ، اسے نکاح میں لیا۔ مگر یہ بھی تب ہے جبکہ پہلے ایک طلاق نہ دے چکا ہو ۔ اب بعد عدت بہ رضائے زن بہ مہر جدید نکاح کر سکتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله