زید کی طرف سے اپنی بیوی ہندہ کو چھٹی اور تین بار طلاق دینے کے وقوع کا مسئلہ
زید اور زید کے سالے حامد حسین میں لڑائی ہوئی ۔ زید بولا میں گھر والے اور باہر والے کو قید کرا دوں گا اور پیشاب پھر نے چلا گیا۔ حامد حسین کی بیوی بولی کہ ہمارے گھر والے کو قید کرا دے تو جانوں۔ زید نے کہا میرے منہ مت لگو، میں شراب پیئے ہوا ہوں ایسے ہی میں گالی دوں گا۔ ہندہ زید کو چپ رہنے کے لئے بولی۔ زید ہندہ کو مارنا شروع کیا۔ اسی اثناء میں ہندہ کی ماں آگئی اور بولی کہ میری بچی کو مارڈالا ، نکل جا میرے گھر سے ، اگر اصل کی ہے۔ پھر زید نے چھٹی دی۔ گواہ نمبر (۱) بتو بیگم کا بیان ہے کہ پہلے دومرتبہ چھٹی دی، چھٹی دی کہا، اس کے بعد تین مرتبہ طلاق دی، کہتا ہوا گھر سے نکلا اور زور سے کہا: سنو محلے والو۔ گواہ نمبر (۲) اللہ بیگم : میں اپنے گھر میں تھی ، میں نے پڑوس میں سے سنا کہ ایک مرتبہ چھٹی دی، اس کے بعد تین مرتبہ طلاق کہتا ہوا ، نکل گیا۔ گواہ نمبر (۳) نذیر احمد صاحب کا بیان ہے کہ میں سڑک پر تھا جو زید کے دروازے پر ہے، اس کی آواز سن کر دروازے پر گیا اور زید سیکڑوں مرتبہ کہا ہوگا کہ چھٹی دی چھٹی دی ، چھٹی دی۔ گواہ نمبر (۴) انوری بیگم کا بیان ہے کہ پہلے دو مرتبہ کہا کہ چھٹی دی ، چھٹی دی۔ پھر گھر سے نکلا اور کہتا ہوا کہ طلاق دی ، طلاق دی ، طلاق دی ،سنو محلہ والو۔ گواہ نمبر (۵) سکیا بیگم کا بیان ہے کہ دومرتبہ چھٹی دی، چھٹی دی اور تین مرتبہ طلاق دی ، طلاق دی ، طلاق دی کہتا ہوا دروازے سے نکل گیا اس کے بعد پتہ نہیں، باہر کیا ہوا۔ لہذا ایسی صورت میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ بیان فرمائیں کہ اب کیا کرنا ہوگا ؟ ہندہ زید کے نکاح میں کس طرح آئینگی ؟ مفصل بیان فرمائیں تا کہ ہم لوگ الجھن میں نہ پڑیں۔ فقط ! جن لوگوں کے سامنے گواہوں نے اپنا اپنا بیان دیا، ان کے دستخط با نشان موجود ہیں۔ (1) نذیر علی خاں صاحب (۲) منے خاں صاحب (۳) محمد شفیع خاں صاحب (۴) اصغر خاں صاحب (۵) چھوٹے صاحب (1) محمد رفیق الاسلام رضوی آپ کا خادم سکن خاں، محلہ گڑی نیوسیا تین پور ضلع پیلی بھیت (یوپی) / ارمجنوری ۱۹۷۸ء
الجواب: فی الواقع اگر گواہان شرعی کے سامنے زید نے یہ الفاظ طلاق ادا کئے تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں ثابت ہیں۔ آڑ سے جوسن رہے تھے ان کی گواہی نامسموع ہے۔ ہندیہ میں ہے: ” لو سمع من وراء الحجاب لا يسعه ان يشهد لاحتمال ان يكون غيره اذا النغمة تشبه النغمة ) یونہی زید اگر گواہان شرعی کے سامنے ۳ طلاقوں کا اقرار کرتا ہو، یا جماعت کثیرہ کے سامنے اقرار کیا ہو تو بھی طلاقیں ثابت ہیں اور بیوی اس پر اب ایسی حرام ہے کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ جماع کے بعد طلاق دیدے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت بیٹھ کر پہلے سے نکاح کرلے۔ قال تعالى: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (۲) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتى تذوقى عسيلته ويذوق عسیلتک (۳) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲ صفر المظفر ۱۳۹۸ (۱) الفتاوى الهندية، كتاب الشهادات الباب الثاني في بيان تحمل الشهادة ، ج ۳، ص ۳۸۹، دار الفکر، بیروت (۲) سورة البقره - ۲۳۰ (۳) جامع الترمذی، ابواب النكاح، ج ۱، ص ۱۳۳، مجلس برکات