اگر کل شام تک بیوی میرے پاس نہیں آئیگی تو اس بیوی کو تین طلاق، تعلیق طلاق کا حکم
کل شام تک میری بیوی میرے پاس نہیں آئیگی تو اس بیوی کو تین طلاق ! مکرمی جناب مولا نا صاحب دام ظلکم ! سلام مسنون بعد سلام عرض یہ ہے کہ بندہ خیریت سے رہ کر آپ حضرات کی خیریت خداوند کریم کی درگاہ سے نیک مطلوب عافیت چاہتا ہے۔ دیگر احوال ضروری بات عرض گزارش ہے کہ : اتفاقا ایک مرتبہ ہم اپنے والدین سے روٹھ کر ایک دوسرے گاؤں چلے گئے تھے۔ اور دوسرے گاؤں میں جانے کے بعد والد صاحب مجھ کو بلانے گئے، اسی گاؤں میں جس گاؤں میں ہم خود موجود تھے، ملاقات ہونے کے بعد مجھ کو دکھ تکلیف ہوگئی اور میں نے اپنے والد صاحب سے کہہ دیا کہ کل شام تک میری بیوی میرے پاس نہیں آئیگی تو اس بیوی کو تین طلاق۔ ایک آواز میں اٹھ کر کے قسم کھائی یہ بات والد صاحب نے سنی اور گھبراگئے اور میرے پاس سے واپس گھر آئے اور میری بیوی کو اس طلاق کی خبر سنائی۔ سن کر بیوی بھی گھر آگئی اور میری قسم توڑنے کے واسطے میرے پاس آنے لگی۔ مگر کچھ دور جب چل کر راستہ میں
الجواب: صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہ ہوئی کہ طلاق تو گاؤں واپس نہ آنے پر معلق تھی اور جب وہ خود ہی شروط کے متفق ہونے سے قبل اپنی بیوی کے پاس پہنچ گیا تو مقصود حاصل ہو گیا اور شرط تحقیق نہ ہوئی کہ یہ صورت تعلیق میں داخل ہی نہیں۔ لہذا اطلاق ہونے کا حکم نہ دیا جائیگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله