ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کا حکم اور رجوع کی شرعی حیثیت
موضع خوش نگری تحصیل چوراہ ضلع چمبہ میں ازین قبل عرصہ مؤرخہ ۱۸ مارچ ۱۹۸۵ء کو ایک مسلمان عورت بغیر اجازت اپنے شوہر کے گھر سے چلی گئی ہے عرصہ پچیس یوم کے بعد شو ہر محمد شریف غصہ کی حالت میں عوام الناس مسلمانوں کے سامنے اپنی منکوحہ کی غیر موجودگی میں منکوحہ کے بیک وقت ایک دم تین طلاقیں دے دیتا ہے۔ اب مسماۃ زوجہ شریف محمد صاحب گھر سے بھاگنے کے بعد عرصہ دو مہینے اور سترہ یوم کے واپس آکر اپنے شوہر بالا کے گھر پر آکر آباد ہوتی ہے۔ اس مسماۃ کو شریف محمد بالا کی نسل سے تین اولا دیں پیدا ہوئی ہیں۔ مسماۃ مذکورہ بالا بعد طلاق ایک ماہ اور بائیس یوم کے بعد شوہر بالا کے گھر آتی ہے۔ جب عرصہ بالا کے بعد مسماۃ مذکورہ بالا اپنے خاوند کے گھر پر پہنچ جاتی ہے تو مسماۃ بالا نے سنا کہ میرے خاوند نے میرے جانے کے بعد غصہ کی حالت میں طلاق دیدی ہے۔ تو مسماۃ بالا اپنے خاوند شریف محمد کو لے کر دوسری بستی کے حاجی اور عالم صاحبوں کے پاس اپنی روداد سنا کر اپنے لئے رجوع کے لئے فتوی دریافت کرتے ہیں۔ اس وقت یہ عورت اور مرد اور ہمراہ بچوں کے روتے ہوئے اور اس بستی کے عالموں کے ستائے ہوئے آئے تھے۔ ان حاجی اور مولوی صاحب کا طریقہ حال یہ ہے کہ پہلے ان صاحب نے تو بہ کر کے نماز نفل وغیرہ پڑھوائی پھر چند مسافر لوگ اور بستی کے چند غریب طبقہ مسلمان بھی اس دعوت میں شامل تھے، انہوں نے بعد تو بہ ساٹھ آدمیوں کا کھانا کرایا تھا، اس کے بعد رجوع کرایا تھا۔ اب اس رجوع و تو بہ کو یہاں کے مولوی صاحبان غلط قرار دیکر ۔ حلالہ نکال کر پھر دوبارہ نکاح کرنے کی ہدایت دیتے ہیں ۔ اب علمائے دین سے پر زور الجی ہوں کہ کرم کر کے پوری شرح وبسط کے ساتھ بحوالہ آیت قرآنی و بحوالہ حدیث قدسی مزین کر کے افتاء شریف صادر کریں کہ ایک دم بیک وقت بحالت غصہ تین طلاقیں دیدی ہیں اور عدت کے اندر رجوع بھی کیا ہے اب براہ کرم افتا صادر کریں کہ جو رجوع اندر عدت کے کیا ہے وہ جائز ہے؟ یا حلالہ کرنا پڑیگا؟ پورے حوالے کے ساتھ فتویٰ شریف صادر کریں۔
الجواب: صورت مسئولہ میں تین طلاقیں جبکہ شوہر دے چکا ہے تو بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد جماع جب طلاق دیدے یا موت وغیرہ سے نکاح فسخ ہو جائے تو بعد عدت پہلے شوہر سے نکاح حلال ہوگا۔ بے حلالہ ان دونوں زن و مرد کو باہم رہنا حلال نہیں۔ ان دونوں پر فرض ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں اور توبہ کریں ورنہ دونوں مبتلائے زنا و مستوجب اشد عذاب ہیں۔ اور جنہوں نے بے حلالہ عورت کو اس مرد کے ساتھ رہنے کا حکم دیا، اور جو جو اس سے راضی رہے، ان سب پہ بھی تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲ رذی قعده ۱۴۰۶ھ