لاٹھی ہم بندوق کے سہارے طلاق لی تو ہوئی یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک رات موضع جادو پورللو کے یہاں اس رات میں کچھ تکرار بڑھ گئی کہ لڑکی کے والد للونے نکاح کرنے سے انکار کیا، میں نکاح نہیں کروں گا۔ کچھ لوگ موضع سندر پور کے بھی وہاں موجود تھے یہ رشتہ دار بھی ہوتے ہیں۔ تو انہوں نے بھی کوشش کی کہ نکاح کر دیا جائے۔ زید نے کسی کی بات نہیں مانی اور بارات واپس کر دی تو زید نے اپنے بھانجے کو سندر پور سے بلا کر نکاح کردیا اور رُخصت نہیں کی اور کہا کہ رخصت ماہ رمضان میں کروں گا۔ رمضان کا مہینہ آیا تو تاریخ ۲۶ رمضان کی بخوشی دیدی اور یہ لوگ رخصت لینے کے لئے لڑکے کو لے کر پہنچے۔ شام کو کھانا کھلایا اور سحری بھی کھلائی جب صبح ہوئی تو بجائے رخصت کے طلاق طلب کی ۔ ہم لوگوں نے طلاق دینے سے انکار کیا کہ طلاق نہیں دیں گے، وہ لوگ جھگڑنے پر آمادہ ہوئے اور لاٹھی، بم ، بندوق لائے اور کہا کہ طلاق نہیں دو گے تو ہم جان سے مار ڈالیں گے۔ لہذاز بر دستی طلاق لے لی۔ للو نے یہ الفاظ کہے کہ اگر خدا بھی اترے گا تو بھی نکاح نہیں
الجواب: زبان سے اگر الفاظ طلاق کہے تو جیسی اور جتنی طلاقیں بولیں ، ویسی اور اتنی طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ یہ جملہ جو خدا کے لئے للو نے بولا سخت تو ہین کا کلمہ ہے جس سے تو بہ تجدید ایمان و نکاح لازم ہے ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۶ رشوال المکرم ۱۳۹۷ھ