طلاق اگر چہ مذاق میں دی جائے واقع ہو جاتی ہے
حضرات علمائے دین ومفتیان شرع متین ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں : کہ میاں بیوی کے درمیان کچھ سخت وسست باتیں ہوئیں کہ شوہر نے اپنی بیوی کو مذاقیہ طور پرتین طلاقیں دے دیں۔ اور عورت کے پیٹ میں چھ مہینہ کا بچہ بھی ہے۔ مرد و عورت دونوں پریشان ہیں اور اپنی غلطی پر نادم وشرمندہ ہیں۔ اب ایسی حالت میں معلوم کرنا ہے یہ طلاق ہوئی نہیں۔ فی سبیل اللہ شریعت مطہرہ کے مطابق جواب مرحمت فرمائیں۔ پیٹ میں چھ ماہ کا بچہ بھی ہے ۔ عین کرم ہو گا ۔ فقط والسلام المستفتی: محمد رفیق بیگ عرف گھسیٹے ،محلہ مہراج گنج، گونڈہ
الجواب: صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی شوہر پر حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت ( کہ وضع حمل ہے ) گزار کر دوسرے سے نکاح کرے وہ بعد جماع جب طلاق دے دے اور عدت گزرجائے تو پہلے نکاح سے حلال ہوگا ۔ قال اللہ تعالیٰ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجِأَ غَيْرَهُ الآية } () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم: لا حتى تذوقی عسیلته ويذوق عسیلتک (۲) طلاق اگر چہ مذاق میں دی جائے واقع ہو جاتی ہے۔ در مختار میں ہے: ( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولوعبدااومكرها اوهازلا) اور حمل میں طلاق دینا ممنوع ہے مگر دی تو ہوگئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری ۲۱ ذیقعده ۱۴۰۱ھ