عورت کے مطالبہ طلاق پر شوہر کا گھر سے باہر جا کر تین بار لفظ طلاق کہنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک مسئلہ ۱۹ محرم الحرام ۱۴۰۹ھ کو لیا گیا تھا جس کا سوال یہ تھا کہ زید اور اس کی بیوی ہندہ میں کچھ کشیدگی ہوئی۔ درمیان گفتگو ہندہ نے کہا کہ تو اگر اصل کا ہے تو مجھ کو طلاق دے دے۔ زید یہ بات سن کر گھر سے باہر آیا اور اس نے باہر کھڑے ہو کر بآواز بلند کہا کہ محلہ والوسنوطلاق ، طلاق ، طلاق ۔ تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید کے لفظ طلاق تین مرتبہ کہنے سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ در آں حالیکہ زید نے تجھے اُسے “ یا ” اپنی بیوی اور لفظ ”دی نہیں کہا۔ اگر طلاق واقع ہوئی تو کتنی واقع ہوئیں؟ اور اگر واقع ہوئیں تو ہندہ مذکورہ کیا کرے؟ عدت کہاں رہ کر گزارے؟ جواب میں مرکزی دار الافتاء سے طلاق نیت پر معلق فرمائی لیکن ویسا ہی بالکل ایک سوال مبارک پور بھیجا گیا تھا۔ اس کے جواب میں وہاں سے لکھ کر آیا کہ طلاق واقع ہو گئی ۔ تو دریافت طلب یہ امر ہے کہ سوال ایک ہے اور اسکا جواب متضاد ۔ ہم لوگ کسی جواب پر عمل کریں ؟ جواب دے کر مشکور فرمائیں! سائل: شبیر احمد نواب منبج
الجواب: صورت مسئولہ میں نظر بہ ظاہر عرف کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور اکثر و بیشتر ان مقامات میں سرعت ادا اور اختصار کے سبب ہے یا دی“ کو محذوف کر دیتے ہیں اور نیت میں ملحوظ ہوتا ہے۔ اس کے پیش نظر تین طلاقیں واقع ہونے کا حکم ہے اور بیوی زید پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد ( جو شوہر کے یہاں گزرے گی ) دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد مشغول جماع ہو کر طلاق لے پھر عدت کے بعد زید سے چاہے تو نکاح کر لے۔ مگر چونکہ ہنوز اضافت لنظمیہ کے مفقود اور رابطہ کے محذوف ہونے کے سبب احتمال قائم ہے۔ لہذا شو ہر اگر بقسم کہہ دے کہ میں نے طلاق کی نیت نہ کی تھی اور طلاق طلاق طلاق سے اس کی کیا مرادشی، بتا دے تو طلاق کا حکم نہ ہوگا کہ اس نے اپنے محتمل کلام سے مراد لیا جو ظاہر سے صاف ہے اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے یا کوئی نیت سرے سے نہ بتائے نہ تفسیر مراد کرے تو اسی ظاہر پر نظر رکھتے ہوئے تین طلاقیں برقرار رہیں گی کہ جب سرے سے کوئی نیت نہ تھی تو عرف شائع کے بموجب حکم لازم اور وہ وقوع طلاق کا مقتضی۔ یونہی اگر تفسیر مراد نہ کرے تو یہی حکم ہے کہ اب کہ محتمل کلام ( ظاہر سے پھیرے ) کو مراد لینا صادق نہیں اور وہی مانع وقوع طلاق ہے اور اس صورت خاصہ میں نیت طلاق نہ ہونے کی تقدیر پر طلاق نہ ہونے کا حکم صحیح ہے۔ اسی تفصیل پر جو ہم نے بیان کی ، اس لئے کہ زید جب بیوی کے پاس سے چلا اور گھر سے باہر آیا تو تفرق ابدان و اختلاف مکان سے مجلس بدل گئی اور مجلس کے بدلنے کے لئے کھڑا ہو جانا لیٹ جانا اور ہر وہ فعل جو اعراض کی علامت ہو یا وجود اتحاد و مکان کافی ہے تو یہاں تو بدرجہ اولیٰ تبدل مجلس ہوا اور ان لفظوں میں احتمال قائم رہ گیا کہ یہ بیوی کے جواب میں کہے یا نہیں۔ لہذا سوال کا جواب میں معاد ہونا محتمل ہوا۔ بالجمله مرکزی دار الافتاء کا فتویٰ بحمدہ تعالیٰ صحیح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله