تین طلاق کے وقوع اور حلالہ کی شرائط و طریقہ کار کا بیان
دروازہ بند کر دینا ۔ ان گواہوں نے کہا ، طلاق دیدی تو ان کو جواب دیتا ہے اپنی بیوی کے لئے چار طلاق دیدی ۔ آپ ہوتے کون ہیں بیچ میں بولنے والے؟ پھر فورا ان گواہوں کے بیچ سے شب کو اس طرح کہہ رہے ہیں جاؤ طلاق دیدی اور ہر کوئی برادری میں رہتا ہے؟ جو برادری میں چلتا ہے سو کرے پھر سب لوگ جٹے اور پہنچوں نے پوچھا کہ عثمان نے طلاق دی ہے یا نہیں ؟ تو کہا کہ اس کو الگ رکھو پھر تین ماہ تیرہ دن کے بعد نکاح کر ، اپنے بچوں کی ایک بھی بات نہیں مانی اور اسے اپنے گھر میں رکھ لیا تو اس وقت پنچوں نے اس پر حرام کاری کا حکم لگا دیا کہ جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہو جائے گا تب تک پہنچ نہیں ملا سکتے، پیر مرشد اعلی حضرت آپ مہربانی فرما کر جواب لکھیں، کیا اس حالت میں شرعاً طلاق ہوئی یا نہیں ؟ جواب جلد دیجئے گا۔ آپ کا خادم : لعل محمد رضوی
الجواب: صورت مسئولہ میں فی الواقع اس نے اپنی بیوی کو طلاق تین دی تو وہ اس کی بیوی پر واقع ہوگئی اب بیوی اس کے لئے ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے شوہر سے نکاح صحیح کرے پھر وہ اس سے ہمبستری کم از کم ایک بار کرے جسمیں صرف دخول کافی انزال ضروری نہیں پھر اسے طلاق دے پھر وہ عورت عدت گزار کر اس پہلے شوہر سے نکاح کرے۔ قال تعالى : ا فَإِن طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الآية (1) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) اور حاملہ کی عدت حمل سے فارغ ہو جانا ہے۔ (1) سورة البقرة - ٢٣٠ (۲) جامع الترمذی، ابواب النكاح، ج ۱، ص ۱۳۳، مجلس برکات قال تعالى: {وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } () والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله یکم رصفر المظفر ۱۳۹۶ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی