طلاق کا ثبوت بہ صورت انکار شوہر گواہان عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی بیوی جو بقول زیدا اپنے فعل بد پر شبہ میں بھی ہے، وہ زید سے مہر کی رقم حاصل کرنے کے لئے الزام تراشی کرتی ہے کہ زید نے مجھے طلاق دیدی ہے اور بقول زید، زید نے طلاق نہیں دی ہے۔ اس کی بیوی نے گواہ بھی تیار کر رکھے ہیں۔ از روئے شرع ان گواہوں کی گواہی قبول ہوگی یا نہیں؟ اور جبکہ طلاق ہی نہیں دی ہے صرف اس کے مکروفریب اور افترا پردازی پر وقوع طلاق کا کیا حکم ہے؟ المستني: صابر حسین محلہ مدھلی ٹولی، پرانہ شہر، بریلی شریف
الجواب: طلاق کا ثبوت به صورت انکار شوہر گواہان عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے، محض عورت کے بیان سے طلاق کا ثبوت نہیں ہوگا۔ البتہ گواہان اگر پرہیز گار ہیں اور شہادت شرعیہ دیتے ہیں کہ زید نے ہمارے سامنے اپنی بیوی کو طلاق دی تو طلاق ضرور ثابت ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۸ ذی قعده ۱۴۰۶ھ