جھگڑے کی وجہ سے تین طلاق دے دی اب ساتھ رہنا چاہتے ہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے حق مسئلہ ذیل کے متعلق کہ : زید اور ہندہ شوہر بیوی ہیں ان کو دولڑ کے بھی ہیں، ایک چار سال کا، دوسرا تقریبا دو سال کا۔ اور ابھی تقریبا تین مہینہ کا حمل ہندہ کو ہے۔ زید اور ہندہ کے درمیان ایک مہمان کی مہمان نوازی کو لے کر جھگڑا شروع ہوا جو کہ کم و بیش تین روز تک چلتا رہا۔ تیسرے روز جھگڑ ا شدت اختیار کر گیا دوران گالی گلوج ہاتھا پائی شروع ہوگئی زید نے ہندہ کو مارا پیٹا اور نہایت غصہ کی حالت میں کئی دفعہ لفظ طلاق چلا چلا کر کہا دوسرے لوگوں نے بھی سنا اس دوران زید تین دنوں میں کبھی کبھار ہی کھانا کھا سکا تھا۔ زید کا کہنا ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ کتنی دفعہ کہا ہندہ کی بات پر زید کو اعتماد ہے۔ ہندہ کا کہنا ہے کہ چھ دفعہ لفظ طلاق طلاق زید نے کہا ہے۔ زید کہتا ہے کہ ہندہ جو کچھ بھی کہتی ہے، صحیح کہتی ہے۔ اب زید اور ہندہ دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں جبکہ اپنے گھر میں صرف زید، ہندہ، اور دولڑ کے ہیں جو کہ ابھی بچے ہیں۔ ایسی نازک صورت میں اور حالت حمل میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
الجواب: لمستفتی : اسرار احمد لوکو ایٹو پارس منی مارکیٹ نزد مسجد دھانو روڈ
صورت مسئولہ میں ہندہ زید کے لئے ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد مشغول جماع ہوکر شوہر طلاق دے یاوہ مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت کے بعد پہلے کے لئے نکاح سے حلال ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی