شوہر دو طلاق کا اقراری جبکہ گواہان تین بتاتے ہیں تو حکم دو کا ہوگا یا تین کا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: زیدا اپنی بیوی زینب کو طلاق گواری میں دیکر فوراً چلا آیا۔ دائی منوادہ میں آکر غیر فاسق نمازیوں سے کہا کہ میں اپنی زینب بیوی کو طلاق دے آیا ہوں، آپ سے سنبھال ملے تو سنبھال لو۔ زید نے دو طلاقوں کا اقرار کیا ہے۔ طلاق کے موقع پر پڑوس میں ایک عورت ہے، قرآن سیکھی ہوئی نمازی ہے، وہ طلاق کے موقع پر موجود تھی۔ وہ عورت خداور سول کو حاضر و ناظر جان کر اور اپنے دین و ایمان سے کہتی ہے کہ تین طلاقیں دی ہیں، اور زید کے سالے کی بیوی صاحبہ اپنے دین و ایمان سے کہتی ہیں کہ زید نے تین طلاقیں دی ہیں۔ یہ تصدیق قاری عبد الحق صاحب نے کی ہے، طلاق کے موقع پر زید کا سالا بھی موجود تھا جو غیر فاسق ہے، شادی شدہ ہے لیکن داڑھی ابھی بھی نہیں ہے ، وہ تین طلاقوں کا اقرار کرتا ہے۔ قاری عبد الحق صاحب نے زید اور زید کی بیوی صاحبہ سے معلوم کیا کہ اگر دو طلاقیں ہوئی ہیں تو آپ اپنے ہاتھوں پر قرآن رکھ کر یہ کہہ دو کہ دو طلاقیں دی ہیں۔ اس کے آگے زید اور زید کی بیوی نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ زید اپنی بیوی کو ۲۰ شعبان سے جبراً اب بھی اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔ اس سے پہلے آپ کی خدمت میں ایک سوال آیا تھا جو آپ کے رجسٹر میں درج ہوگا۔ سوال نمبر ۱۴ / ۶۸۱۷، کاتب مولانا قمر الدین، جواب محمد اعظم غفرلہ قادری، دارالافتاء، کتبه محمد انور مصطفوی، ٹانڈوی، بریلی شریف - ۱۰ / فروری ۱۹۷۹ء کو ان نمبروں کا فتویٰ آپ کے یہاں سے آیا ہے۔ یہ سوال مولانا قمر الدین نے ۴۸ /روپے رشوت لیکر لکھ کر بھیجا تھا، انہوں نے گواہوں کو صحیح نہیں لکھا تھا یہ انہوں نے غلط لکھا ہے۔ زید کے سالے کا دماغ ٹھیک ہے یہ تصدیق کم از کم پچاس آدمیوں نے کی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں! كاتب: عبدالحق، ارشاد احمد ، بابوعلی ، کلوشاه کن
الجواب: طلاق کا ثبوت دو مرد عادل یا ایک مرد اور دو عورت عدول کی شرعی گواہی سے ہوتا ہے، محض عورتوں کا بیان کافی نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں شرعاً ثابت نہیں ہوئیں۔ اگر واقعہ یہی ہے کہ شوہر نے عورت کو دو طلاقیں بلفظ صریح دی ہیں تو دور جعی طلاقیں واقع ہو گئیں۔ اگر پہلے ایک اور نہ دے چکا ہو تو عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کے لئے مستحب یہ ہے کہ شوہر دو نمازیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ زید نے باشرع آدمیوں کے سامنے تین طلاقوں کا اقرار نہ کیا ہو۔ اگر اس نے تین طلاقوں کا اقرار باشرع آدمیوں کے سامنے کیا تو تین طلاقیں ثابت ہو گئیں یونہی اگر وہ عورتیں اور مرد جو تین طلاقوں کی گواہی دے رہے ہیں، سب با شرع ہیں اور زید نے ان کے سامنے تین طلاقیں دی ہیں تو یہی حکم ہے اور زینب زید پر ایسی حرام کہ بے حلالہ اس کو حلال نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ