مجبوری کی حالت میں تین طلاق اور بیوی کے غلط برتاؤ کا معاملہ
مجبور ہو کر تین طلاق دے دی تو ہوئی کہ نہیں؟ گزارش خدمت ہے کہ: میری اہلیہ انیسہ بی جس کا نکاح میرے ساتھ آج سے ۶ سال قبل ۲۵ نومبر ۱۹۷۵ء کو بجاور ضلع چھتر پور میں ہوا تھا، اس وقت سے وہ میرے ساتھ زیادہ سے زیادہ ایک سال رہی اور اس ایک سال کے عرصہ میں اس کا طور و طریقہ غلط رہا، اس کے فوٹو اجنبی اشخاص کے پاس پائے گئے ، بغیر اجازت گھر سے چلی جانا اس کا معمول بن چکا تھا، میرے والدین کے ساتھ ان کا برتاؤ ، نہایت سخت رہا۔ میرے ساتھ شوہر کا جو حق ہوتا ہے، اسے بھی پورا نہیں کرتی، جب بھی میں لینے گیا، میرے ساتھ آنے سے انکار کیا۔ ایک بار جب لینے گیا تو میری اہلیہ نے مکان میں آنے سے روکنے کے لئے دروازہ بند کر دیا اور میں دیگر جگہ رُک کر واپس لوٹ آیا۔ ساس نے کہا: جس کے پاس کنواری لڑکی ہو، وہ بھیج دے، میری لڑکی اب نہیں جائیگی ۔ اس کے بعد میرے چچا سسر کی معرفت وہ آئی تو قریب ڈیڑھ ماہ رہی اس بیچ اجنبی لوگوں کا آنا جانا دیکھا، بہت سمجھانے پر بھی کوئی اثر نہیں ہوا، میرے ساتھ اس دفعہ میں ایسا وقت گزارا جس طرح
الجواب: تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی آپ پر ایسی حرام ہوگئی کہ بعد عدت جب تک دوسرے سے نکاح صحیح ہو کر عورت کا جماع پھر طلاق نہ ہولے اور عدت نہ گزرے، آپ کو اس سے نکاح حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۳۰/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی