بار بار طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے تین طلاقوں کے وقوع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید نے اپنی بیوی کے والد کے سامنے جبکہ زید کا خسر اپنی لڑکی کو بلانے آیا تو زید نے یہ جملہ استعمال کیا کہ تم اپنی لڑکی کو لے جاؤ اور جہاں چاہو اس کا نکاح کر دو، اس سے کوئی مطلب نہیں۔ زید کے خسر نے جواب دیا کہ تم اس طرح کے لفظ کیوں ادا کرتے ہو؟ لہذا زید نے فوراً ہندہ سے کہا کہ میرے گھر سے نکل جاؤ۔ میں تم کو کسی بھی حال میں نہیں رکھوں گا۔ میں نے تم کو طلاق دی ، طلاق دی، طلاق دی ہندہ اپنے والد کے ساتھ چلی گئی اور کسی اور کے گھر میں جا کر بیٹھ گئی۔ ساتھ میں دولڑ کے تھے پھر بکر دونوں لڑکوں کو لے کر زید کے گھر آیا اور کہا کہ میں بھائی ان دونوں لڑکوں کو لے کر آیا ہوں دونوں لڑکوں کو رکھ لو اور تم چاہو تو تمہاری عورت کو لائے دیتا ہوں۔ پھر بھی کئی آدمیوں کے سامنے میں زید نے یہی لفظ ادا کیئے کہ میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ میں نہیں رکھوں گا۔ میں آج اسے طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں۔ لہذا ہندہ کی طلاق ہوئی یا نہیں؟ زید پر کیا شرعی حکم ہے؟ جواب مرحمت فرمائیں گے عین نوازش ہوگی ۔ سائل : محمد رضاخاں، غوث منج، ڈاکخانہ تحصیل: فرید پور
الجواب: زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور زید پر دو ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد جماع جب طلاق دیدے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت کو بعد عدت پہلے شوہر سے نکاح حلال ہوگا۔ قال تعالى : (حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ / شعبان المعظم ۱۴۰۰ھ