گواہان شرعی کے سامنے تین طلاقوں کے اقرار کا حکم
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : زید نے اپنی بیوی شہیدن کو تین بارطلاق دیدی کیونکہ حکم نہیں مانتی تھیں ان گواہوں کے سامنے جن کے نام یہ ہیں: (۱) حاجی عبد الرشید۔ (۲) کریم بخش۔ یہ دونوں گواہ شریعت مطہرہ کے پابند ہیں۔ زید کا نام عبدل ہے۔ ساکن گاؤں حضرت پور ضلع رام پور، یوپی ۔ المستفتی: لیاقت خاں ساکن : بدھولیا ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: اگر یہ امر واقعی ہے کہ زید نے گواہان شرعی کے روبرو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں یا گواہان شرعی کے سامنے تین طلاقوں کا اقرار کیا ہے تو تین طلاقیں اس کی بیوی پر ثابت ہوگئیں ۔ اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس کے لئے بھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کرے۔ وہ جماع کے بعد جب اسے طلاق دیدے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت کے بعد اگر پہلے شوہر کے ساتھ رہنا چاہے تو اس سے نکاح کرے۔ قال تعالى : {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} () وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : ،، لاحتى تذوقي عسيلته ويذوق عسیلتک (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی