حالت جنون (دماغی توازن بگڑنے) میں دی گئی طلاق کا حکم
اکرام الدین اپنے بچوں و بیوی کے ساتھ بڑی اچھی طرح رہتے تھے، اچانک دماغ کا توازن بگڑا، دماغ پر کیا اثر ہوا یہ معلوم نہیں مگر دماغی خلل اس حد تک رہا کہ علاج و معالجہ کرایا گیا کیونکہ ہر بچے کو مارنا پیٹنا چاقو سے وار کرنا گھر کی قیمتی اشیاء کو تباہ کر ڈالنا نئے بنے مکانات کو اس کی دیواروں کو توڑ کر گراد بنا۔ بال بچوں بیوی گھر و سامان کو تباہ کر دینا یہ سب حرکات کی گئیں اور اسی حالت میں سب کو گھر سے یا تو نکالد یا یا بیوی بچوں کو خود ہی نکلنا پڑا۔ ایسے ہی حالات میں اپنی بیوی کو بھی طلاق دیدی۔ جب یہ سب ہو گیا اور اور حالت دن بدن بدتر ہوتی گئی برتن اشیاء، مکان کو توڑ پھوڑ اپنی اولا د سے نفرت اور اکیلے خود کو تباہ کرنے کے سبب بھی جنون ختم نہ ہوا تو مکان کو ختم کرنے کا اقدام شروع کیا اس عرصہ میں علاج و معالجہ، دعا تعویذ ہر ممکن کیا گیا اچانک تبدیلی آئی۔ بال بچوں، گھر بارسب کا ویسا ہی خیال پیدا ہوا۔ اب خاموش ہیں سب کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، رہتے سہتے ہیں۔ سوال: کیا مندرجہ بالا حالت میں بیوی کو طلاق ہو گئی ؟ جواب سے آگاہ فرماکر ممنون و مشکور ہوں ۔ فقط ! ناظم علی صدیقی ، جے پور
الجواب: فی الواقع اگر اکرام الدین مجنون ہو گئے تھے تو حالت جنون کی طلاق واقع نہ ہوئی۔ تنویر الابصار میں ہے: وو ولا يقع طلاق المولى على امرأة عبده والمجنون ) مفتی کا کام اظہار حق شرع ہے نہ کہ حرام کو حلال کرنا۔ والعیاذ باللہ ۔ جھوٹ بولنے سے حرام حلال نہ ہوگا بلکہ دو ہر اوبال ہو گا۔ فاعتبرہ ۔ واللہ تعالیٰ الہادی فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله لقد اصاب من اجاب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی