دو مرتبہ زبان سے ایک مرتبہ دل میں ، طلاق دی تو دو ہو ئیں یا تین؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : اگر کوئی شخص دو مرتبہ اپنی منکوحہ بیوی سے کہے کہ طلاق دی ، طلاق دی۔ اور تیسری مرتبہ زبان سے ادا نہ کرے بلکہ صرف دل میں ہی کہہ لے کہ طلاق دی۔ ایسی صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ اور زید کی بیوی کو صرف دو مرتبہ ادا کر لینے سے طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور اگر ہوئی تو کس نوعیت اور قسم کی ہوئی؟ مزید اگر زید بیوی کے ساتھ رہنا چاہے تو اس کو کیا کرنا چاہئے؟ المستقني: عبدالصمد
الجواب: شخص مذکور نے اگرا اپنی بیوی کو دو مرتبہ بایں الفاظ مذکورہ طلاق دی تو اس پر دور جعی طلاقیں ہوگئیں اس لئے کہ بولی (طلاق ) صریح ہے اور صریح سے رجعی ہی واقع ہوتی ہے۔ دل میں کہنے کا اعتبار نہیں ۔ جب تک زبان سے نہ کہے۔ اگر زبان سے تیسری مرتبہ کہہ دیتا تو اس کی بیوی اس پر تا وقت حلالہ حرام ہو جاتی ۔ صورت مسئولہ میں شخص مذکور منکوحہ سے عدت گزرنے سے پیشتر رجعت کرسکتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۰ رصفر المظفر ۸۹