عذر شرعی کی بنا پر بڑی بہن کو طلاق دے کر چھوٹی سے نکاح کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ کے متعلق کہ: زید اپنی منکوحہ ہندہ کو طلاق دیکر اس کی چھوٹی بہن خالدہ سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ زید کے طلاق دینے کی وجہ یہ ہے کہ ہندہ زید کے کسی حکم کو بجالانے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتی ۔ حتی کہ حق زوجیت سے جو باتیں متعلق ہیں اس کے لئے بھی زید کو جبر وا کراہ کی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اب ایسی صورت میں زید کی زندگی نامکمل طور پر گزر رہی ہے۔ اب زید کا کہنا ہے کہ بعد طلاق ہندہ کو تا زندگی ہر ماہ مبلغ ایکسو روپے دیتا رہوں گا چونکہ ہندہ زید کی ماموں زاد بہن بھی ہے۔ اس کی مجبوریوں کو دیکھ کر زید اس
کو یہ رقم دینا چاہتا ہے۔ لہذا حضور والا سے گزارش ہے کہ صورت مسئولہ کا جواب شریعت مطہرہ کی روشنی میں عنایت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط والسلام المستفتی: محمد سلیمان رضوی ایف ۲۸ ، شافعی اصطبل مٹیا برج گارڈن ، ریچ روڈ کلکتہ - ۲۴ الجواب: صورت مسئولہ میں زید کا ہندہ کو طلاق دینا مباح ہے بلکہ نیت خیر سے مستحب ہے۔ در مختار میں ہے: يستحب لو مؤذية او تاركة صلاة غاية ومفاده ان لا اثم بمباشرة من لا تصلى (1) رد المحتار میں ہے: قوله (لومؤذية) اطلقه فشمل المؤذية له ولغيره بقولها او بفعلها (٢) پھر بعد عدت ہندہ اس کی بہن خالدہ سے اس کی رضا سے زید کو نکاح حلال ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۱۲ رذی قعدہ ۱۴۱۳ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی