نشہ کی حالت میں طلاق دی، دی ، دی کہنے سے تین طلاقوں کے وقوع کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص ولی حسین ولد علی حسین شیخ موضع چکا تیا میں رہتا ہے۔ وہ شراب کی حالت میں تھا اس کو چار آدمی اُٹھا کر لے گئے وہ اپنے ماموں کے یہاں تھا اس نے شراب کے نشے میں یہ کہہ دیا کہ میں نے طلاق دی، دی، دی۔ وہ شخص اُٹھا کر لے گئے تھے جو کہ بے شرع تھے ان سے معلوم کیا کہ اس نے طلاق دیدی؟ تو ان کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے طلاق نہیں دی۔ وہاں پر دو آدمی اور آگئے وہ بے شرع تھے، اُن کا کہنا ہے کہ اس نے طلاق تین بار دی۔ لہذا ان گواہان سے حلفیہ معلوم کیا گیا تب وہ گواہان کہتے ہیں ۔ ہم نے خود سنا ہے۔ لہذا اس طلاق کے بارے میں بتلایا جاوے کہ طلاق ہوئی یا نہ ہوئی؟ المستفتى : عبد القدیر، موضع کلی نگر ضلع پیلی بھیت
الجواب: زید نے واقعی اگر نشہ کی حالت میں طلاق دی، دی، دی“ کہا تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور اس کی بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت دوسرے جائز شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے پھر جب اس کی عدت گزرجائے تو زید کو اس سے نکاح حلال ہوگا ۔ مگر طلاق کا ثبوت بصورت انکار زید گواہان عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے۔ لہذا اگر گواہان با شرع نہیں تو طلاقیں ثابت نہ ہوئیں جبکہ زید کا اقرار ثابت نہ ہو اور زید نے اگر طلاقیں واقعۂ دی ہیں تو اسے بیوی کے ساتھ رہنا حلال نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله