مطالبہ طلاق پر یہ کہا کہ ہم تمہاری بہن کو طلاق دے رہے ہیں دے رہے ہیں دے رہے ہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ میں کہ: محمد قسیم الدین نے اپنی منکوحہ بیوی مینہ خاتون کے لئے اپنی مذکورہ بیوی کی غیر موجودگی میں اپنے سالہ اور اپنی سالی کے سامنے ان کے مطالبہ طلاق پر یہ کہا کہ ہم تمہاری بہن کو طلاق دے رہے ہیں دے رہے ہیں دے رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص کے سوال کرنے پر کہ آپ کیا کر کے آرہے ہیں تو محمد قسیم الدین نے جواب دیا کہ میں شمس الحق (محد قسیم الدین کے سسر ) کی لڑکی کو طلاق دے کر آرہا ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ از روئے شرع مطہر طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور اگر طلاق ہوئی تو کیسی طلاق ہوئی ؟ بہت جلد جواب مرحمت فرمائیں۔ بینوا توجروا المستفتی: محمد جسیم الدین خاں آره آٹو گیر بیج، او پر کی جھر یا ضلع دھنباد (بہار)
الجواب: تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ در مختار میں ہے: ،، كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وان نوى التأكيد، دين ) (1) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ / رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی الدر المختار، کتاب الطلاق، باب الطلاق غير المدخول بها، ج ۴، ص ۵۲۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت