ماہواری کی حالت میں ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کے وقوع کا شرعی حکم
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : محمد یامین ولد اتواری جو محلہ بھوڑ، بریلی شریف کے رہنے والے ہیں، یا مین کا اپنی بیوی سے آپس میں کچھ گھریلو جھگڑا ہوا، اس جھگڑے میں یامین کے ساڑھو محمد فاضل جو وہ بھی محلہ بھوڑ پر رہتے ہیں وہ بھی آگئے انہوں نے آکر اپنی سالی جو یا مین کی بیوی ہے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ وہ خاموش رہی پھر دوبارہ پوچھا کیوں کیا بات ہوئی ہے؟ پھر بھی یامین کی بیوی خاموش رہی۔ لہذا پھر محمد فاضل نے محمد یا مین سے پوچھا یا مین کیا ہوا تو اس پر یامین نے اپنے ساڑھ محمد فاضل سے کہا میں اپنی عورت کو نہیں رکھنا چاہتا اور کہا سنو ! میں نے طلاق دی ، طلاق دی ، طلاق دی۔ ایک ہی سانس میں تینوں بار کہا اور یامین کے پڑوس میں ایک للولد بہادر نام کے رہتے ہیں یہ واقعہ انہوں نے بھی سنا مگر یا مین کی بیوی جس کا نام نادرہ ہے وہ یہ کہتی ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے طلاق دی یا نہیں اور گود میں ایک لڑکا ہے جس کی عمر سات مہینہ کی ہے اور یامین کی بیوی نادرہ اس وقت ماہواری سے بھی ہو رہی ہے جس کی تاریخ انیس اپریل بروز ہفتہ ہے۔ لہذا اس میں شریعت کیا فرماتی ہے؟
الجواب: الاط: محمد فاضل بقلم محود الملو محمد یامین اگر یہ واقعہ ہے کہ محمد یا مین نے تین بار طلاق دی ، طلاق دی“ کہا تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اس کو حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کرے وہ بعد جماع جب طلاق دے دے یا مرجائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت گزار کر چاہے تو پہلے سے نکاح کرلے۔ قال تعالیٰ: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} () وقال النبی سالم : " لا حتى تذوقی عسیلته ويذوق عسیلتک (۲) ماہواری کی حالت میں طلاق دینا نا جائز ہے مگر طلاق ہو جاتی ہے اسی طرح تین طلاقیں یکبارگی دینا ناجائز اگر چہ تینوں واقع ہوں گی۔ محمد یا مین پر دو وجہ سے تو بہ لازم ۔ ایک یہ کہ حالت حیض میں طلاق دی، دوئم یہ کہ تینوں طلاقیں دفعتہ دیں۔ اور صورت مسئولہ میں عدت تینوں حیض کامل آکر ختم ہو جانا ہے اور یہ حیض جس میں طلاق دی، عدت میں شمار نہ ہوگا ۔ در مختار میں ہے: نیز در مختار میں ہے: ولا اعتداد بحيض طلقت فيه ) اجماعا (۳) والبدعى ثلث متفرقة او ثنتان بمرة او بمرتين في طهر واحد لا رجعة فيهاوواحدة في طهر وطئت فيه او واحدة في حیض موطوئة (٢) رد المحتار میں ہے: قوله ثلث متفرقةوكذابكلمةواحدة بالاولى-الخ (ه) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۴ جمادی الاخری ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی